• Home
  • Sports
  • Cricket
  • شاپور زدران: پناہ گزین کیمپ سے کرکٹ کی راہ تک پہنچنا

شاپور زدران: پشاور کے پناہ گزین کیمپ سے کرکٹ کی شروعات کرنے والے افغان فاسٹ بولر کس مرض میں مبتلا تھے؟

ALN NEWS DESK
اے ایل این نیوز ڈیسک
آخری اپڈیٹ : بدھ 8 جولائی 2026 23:02
10 min read
  • linkedin
  • twitter
  • facebook
  • instagram
  • whatsapp

شاپور زدران ان کھلاڑیوں میں شامل تھے جنھوں نے افغانستان میں کرکٹ کے ابتدائی سفر میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 1990 کی دہائی کے اواخر میں، جب پشاور میں مقیم افغان مہاجرین نے افغانستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی تشکیل کی کوششیں شروع کیں تو شاپور زدران بھی اس ٹیم کا حصہ بنے۔

افغانستان کرکٹ کے ابتدائی دور کے نمایاں کھلاڑی شاپور زدران تقریباً پانچ ماہ تک انڈیا میں زیرِ علاج رہے، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے اور 38 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ ان کی موت نے افغان کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم باب کو بند کر دیا، جو نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کا ایک افسوسناک پہلو ہے بلکہ یہ اس کھیل کے لیے بھی ایک بڑا نقصان ہے جس نے ان کی زندگی کے کئی اہم لمحات کو اپنی آغوش میں لیا۔ شاپور زدران کی وفات سے افغان کرکٹ کے ابتدائی دور کی ایک یادگار داستان اپنے اختتام کو پہنچی، جو کہ ان کی محنت، عزم اور شوق کی عکاسی کرتی ہے۔

شاپور زدران ان کھلاڑیوں میں شامل تھے جنھوں نے افغانستان میں کرکٹ کے ابتدائی سفر میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 1990 کی دہائی کے اواخر میں، جب پشاور میں مقیم افغان مہاجرین نے افغانستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی تشکیل کی کوششیں شروع کیں تو شاپور زدران بھی اس ٹیم کا حصہ بنے۔ ان کی شمولیت نے افغان کرکٹ کی بنیاد کو مزید مستحکم کیا، جس کے نتیجے میں آج کی مضبوط قومی ٹیم کا قیام ممکن ہوا۔

افغان کرکٹ کے ابتدائی دور کے ایک اور کھلاڑی، ہستی گل عابد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے شاپور زدران کی ٹیم میں شمولیت کا دلچسپ واقعہ بیان کیا۔ انھوں نے کہا کہ 'مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب دولت احمدزئی شمسٹو سے انھیں ہمارے پاس لائے۔ اس وقت ہم پشاور جمخانہ میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ دولت احمدزئی نے شاپور کی بہت تعریف کی اور کہا کہ وہ بہترین بلے باز ہیں جبکہ ان کی فاسٹ بولنگ بھی غیر معمولی ہے۔' یہ بات شاپور کی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ صرف ایک بلے باز ہی نہیں بلکہ ایک بہترین فاسٹ بولر بھی تھے، جو افغان کرکٹ کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔

ہستی گل عابد کے مطابق اسی دن سے شاپور زدران کے کرکٹ سفر کا آغاز ہوا جو بعد ازاں افغانستان کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم باب بن گیا۔ افغان کرکٹ کی ابتدائی تاریخ میں شاپور زدران کی شمولیت نے ان کی محنت اور لگن کی ایک مثال قائم کی، جو آج بھی نئے کھلاڑیوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

’شاپور زدران نے کرکٹ کے ابتدائی دنوں میں مُشکل حالات کے باوجود حوصلہ نہیں ہارا‘

افغان کرکٹ کے ابتدائی دور میں شاپور زدران نے دیگر ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ کابل کے گرد و غبار بھرے میدانوں میں کھیلتے ہوئے افغان کرکٹ کی بنیاد مضبوط کرنے اور اسے آگے بڑھانے کا سفر شروع کیا۔ اس دور میں افغان کرکٹ کو کئی چیلنجز کا سامنا تھا، جن میں سہولیات کی کمی، مالی وسائل کی عدم دستیابی، اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہ ہونے کے مسائل شامل تھے۔

افغان ٹیم کے ابتدائی کپتانوں میں شامل اور موجودہ انڈر 19 ٹیم کے کوچ رئیس احمدزئی نے شاپور زدران کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 'شاپور نے کرکٹ کے ابتدائی دنوں میں مُشکل حالات کے باوجود کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔ آج افغان کرکٹ جس مقام پر کھڑی ہے، وہ انہی نوجوانوں کی قربانیوں اور محنت کا ثمر ہے۔' ان کے الفاظ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ شاپور زدران جیسے کھلاڑیوں کی محنت نے افغان کرکٹ کو ایک نئی شناخت دی۔

اُن کا کہنا تھا کہ 'انھوں نے وسائل کی کمی، محدود مواقع اور کسی قسم کی سرپرستی نہ ہونے کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔ شاپور کی سب سے بڑی کامیابی یہی تھی کہ انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کبھی ہار نہیں مانی۔' یہ الفاظ شاپور کے عزم و ہمت کی عکاسی کرتے ہیں، جو آج بھی نئے کھلاڑیوں کے لیے ایک مثال ہیں۔

شاپور زدران اس دور میں بھی افغان ٹیم کا حصہ رہے جب ٹیم شدید مشکلات اور محدود مواقع کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ان کی محنت اور لگن نے افغان کرکٹ کو ایک نئی راہ دکھائی، جو آج بھی جاری ہے۔

افغان کرکٹ کے ابتدائی دور کے کھلاڑی اور افغانستان کرکٹ بورڈ کے رکن احمد شاہ سلیمان خیل نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'شاپور اس زمانے کے کھلاڑی تھے جب سہولیات کا فقدان ہوا کرتا تھا۔ ہم لکڑی کے ڈنڈوں سے کھیلتے تھے، کھلاڑیوں کے پاس مالی وسائل نہیں تھے اور نہ ہی بورڈ کے پاس کوئی انتظامی یا مالی سہولت موجود تھی۔' یہ بیان اس دور کی مشکلات کو واضح کرتا ہے، جس میں شاپور زدران اور ان کے ساتھی کھلاڑیوں نے کرکٹ کو فروغ دینے کی کوشش کی۔

خوش مزاج اور محفلوں کی جان

ساتھی کھلاڑیوں کے مطابق شاپور زدران خوش مزاج اور ایسی شخصیت کے مالک تھے جو اپنی موجودگی سے ہر محفل کی جان بن جاتے تھے۔ ان کی خوش مزاجی اور دوستانہ رویے نے انہیں اپنے ساتھیوں میں مقبول بنا دیا تھا۔ افغان ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ انڈر 19 ٹیم کے کوچ رئیس احمدزئی کہتے ہیں کہ 'شاپور ہمیشہ دوستوں اور ساتھی کھلاڑیوں کے درمیان مسکراتے رہتے تھے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ نہایت ملنسار اور خوش اخلاق انسان تھے۔ وہ زندہ دل تھے اور اپنی باتوں سے سب کو ہنسا دیتے تھے۔' ان کی یہ خوبیاں انہیں نہ صرف ایک بہترین کھلاڑی بلکہ ایک بہترین دوست بھی بناتی تھیں۔

افغان کرکٹ کے ابتدائی دور میں جب میچ ٹیلی ویژن پر نشر نہیں ہوتے تھے اور زیادہ تر خبریں اور کمنٹری ریڈیو پر سنی جاتی تھی، تو شائقین ہر کھلاڑی کی ایک تصوراتی تصویر اپنے ذہن میں بناتے تھے۔ شاپور زدران کی شخصیت اور ان کی بولنگ کا انداز شائقین کے ذہنوں میں ایک خاص مقام رکھتا تھا۔

ریڈیو کمنٹری میں جب شاپور زدران کا ذکر ہوتا تو ان کے قد، لمبے بالوں اور پرکشش شخصیت کا تذکرہ بھی کیا جاتا، جس کے باعث شائقین بے تابی سے ان کی تصویر یا انھیں میدان میں دیکھنے کے منتظر رہتے تھے۔ جب پہلی بار شاپور زدران کی تصاویر منظرِ عام پر آئیں تو ان کی تیز رفتار بائیں ہاتھ کی بولنگ کے ساتھ ساتھ ان کی وجیہہ شخصیت بھی افغانستان بھر میں پہچان بن گئی۔

تاہم بہت کم لوگ یہ بات جانتے تھے کہ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والا یہ زندہ دل کھلاڑی بولنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے گا۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ شاپور زدران کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب وہ اپنی خوش مزاجی اور بات چیت کی صلاحیت سے محروم ہو گئے، لیکن ان کی یادیں آج بھی ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

رئیس احمدزئی شاپور زدران کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'وہ لمبے رن اپ کے ساتھ گیند بازی کرتے تھے۔ ان کے لمبے بال اور انداز انھیں میدان میں نمایاں بناتا تھا۔ وہ ہم سب کھلاڑیوں کے لیے جوش اور توانائی کا باعث تھے۔' شاپور کی یہ خصوصیات انہیں ایک منفرد اور یادگار کھلاڑی بناتی ہیں، جو ہمیشہ اپنے ساتھیوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

شاپور زدران اور حمید حسن کی جوڑی

افغان کرکٹ کے ابتدائی دور میں جب سپن بولنگ ابھی زیادہ نمایاں نہیں تھی، افغانستان کی فاسٹ بولنگ کا ذکر آتے ہی شاپور زدران اور حمید حسن کی جوڑی ذہن میں آتی تھی۔ یہ دونوں ایسے فاسٹ بولرز تھے جنھوں نے اپنی رفتار، جارحانہ انداز اور شاندار بالنگ سے افغان کرکٹ کو نئی شناخت دی۔ طویل عرصے تک ان کی جوڑی حریف ٹیموں کے لیے دردِ سر بنی رہی۔

افغان ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ انڈر 19 ٹیم کے کوچ رئیس احمدزئی کہتے ہیں کہ 'مجھے ان دونوں پر ہمیشہ مکمل اعتماد تھا۔ ان کی جوڑی دیکھنے والوں کے لیے بھی انتہائی دلچسپ ہوتی تھی اور مخالف ٹیموں کو وہ مسلسل دباؤ میں رکھتے۔ دنیا کی چند مشہور فاسٹ بولنگ جوڑیوں کی طرح شاپور اور حمید حسن کی شراکت بھی خاصی معروف تھی۔' ان کی شراکت نے افغان کرکٹ کو ایک نئی بلندیوں پر پہنچایا، جو آج بھی ان کی یادوں کی عکاسی کرتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ 'شاپور لمبے رن اپ کے ساتھ گیند بازی کرتے تھے اور ان کی گیندیں غیر معمولی طور پر وکٹ کی دونوں جانب موو ہوتی تھیں، جبکہ حمید حسن اپنی تیز رفتار یارکرز کے لیے مشہور تھے۔ شاپور کی بیک آف لینتھ گیندیں اور اِن سوئنگ بھی انتہائی مؤثر ہوتی تھیں۔ جب ایک اینڈ سے حمید حسن اور دوسرے اینڈ سے شاپور بولنگ کرتے تو ان کا مقابلہ کرنا کسی بھی بیٹنگ لائن اپ کے لیے آسان نہیں ہوتا تھا اور ہمیں ان دونوں پر مکمل بھروسا تھا۔' یہ دونوں کھلاڑی نہ صرف اپنے ملک کی شان تھے بلکہ انہوں نے افغان کرکٹ کو بین الاقوامی سطح پر بھی متعارف کرایا۔

رئیس احمدزئی کے مطابق شاپور زدران میں ایک کامیاب فاسٹ بولر کی تمام خصوصیات موجود تھیں۔ 'ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کبھی ہمت نہیں ہارتے تھے اور ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے تھے۔ ایک فاسٹ بولر میں یہی جذبہ ہونا چاہیے۔ وہ نہ تو کسی بلے باز سے مرعوب ہوتے تھے اور نہ ہی مخالف ٹیم سے خوفزدہ۔' ان کی یہ خصوصیات انہیں ایک منفرد فاسٹ بولر بناتی تھیں، جو افغان کرکٹ کے لیے ایک قیمتی اثاثہ تھے۔

افغان کرکٹ کے ابتدائی دور کے کھلاڑی افغان کرکٹ بورڈ سے وابستہ احمد شاہ نے شاپور زدران اور حمید حسن کی جوڑی کا موازنہ پاکستان کے عظیم فاسٹ بولرز وسیم اکرم اور وقار یونس، جبکہ آسٹریلیا کے بریٹ لی اور گلین میک گرا سے کیا۔ یہ موازنہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شاپور اور حمید کی جوڑی نے کس طرح افغان کرکٹ کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔

ورلڈ کپ میں سکاٹ لینڈ کے خلاف شاپور زدران کی تاریخی چار وکٹیں

شاپور زدران نے افغانستان کرکٹ کی 22 برس تک خدمت کی اور اس دوران قومی ٹیم کی کئی تاریخی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی شاندار کارکردگی نے افغان کرکٹ کو بین الاقوامی سطح پر ایک نئی شناخت دی، جس کا اثر آج بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے موقع پر اپنے الوداعی پیغام میں انھوں نے لکھا تھا کہ '22 سال تک خدمت، قربانی اور محبت کے بعد آج میں بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہہ رہا ہوں۔' یہ الفاظ شاپور زدران کی زندگی کا خلاصہ ہیں، جو ان کی محنت اور لگن کی عکاسی کرتے ہیں۔

شاپور زدران نے افغانستان کو مختلف عالمی مقابلوں تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ سنہ 2010، 2012، 2014 اور 2016 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں افغان ٹیم کی کامیابیوں کا اہم حصہ رہے، جبکہ سنہ 2015 کے ون ڈے کرکٹ ورلڈ کپ میں بھی ٹیم کی نمائندگی کی۔ ان کی شاندار کارکردگی نے افغان کرکٹ کو ایک نئی بلندیوں پر پہنچایا، اور آج بھی ان کی یادیں افغان کرکٹ کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔ شاپور زدران کی زندگی اور کارنامے افغان کرکٹ کے لیے ایک مثال ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنیں گے۔

Get More Updates

To learn more about the latest developments in Cricket, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.

Related News