ایران نے الزام لگایا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز سے غیر قانونی راستہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے علاقے میں عدم تحفظ پیدا ہوگا۔
اسلام آباد، پاکستان ۱۲ جولائی، ۲۰۲۶ ALN: تہران (12 جولائی 2026): ایران کا کہنا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز سے غیر قانونی راستہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمنیہ نے الزام لگایا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز سے ایک ایسا راستہ بنانے کے لیے مداخلت کر رہا ہے جو غیر قانونی ہے، انھوں نے کہا ایسے اقدامات سے علاقے میں عدم تحفظ پیدا ہوگا۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمنیہ نے کہا امریکا کو ایم او یو کی شرائط کی پاسداری کرنی چاہیے، اور یاد رکھنا چاہیے کہ ایران کی مسلح افواج آبنائے ہرمز اور عوام کے حقوق کا مضبوطی سے دفاع کریں گی۔
ایران کے اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی جہازرانی کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہ آبنائے دنیا کی توانائی کی ضروریات کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، اور اس کی سیکیورٹی کا براہ راست اثر عالمی منڈیوں پر پڑتا ہے۔
دوسری طرف ایرانی چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا کہ یک طرفہ معاہدوں کا دور اب ختم ہو گیا، ہم نے آپ سے کہا تھا یا اپنے وعدے پورے کریں یا وعدہ خلافی کی قیمت ادا کریں۔ حقیقت آپ کے سامنے ہے۔
قالیباف کا یہ بیان اس تناظر میں اہم ہے کہ ایران نے حالیہ برسوں میں اپنے جوہری پروگرام اور دیگر دفاعی اقدامات کی وجہ سے بین الاقوامی تنقید کا سامنا کیا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی وجہ 2015 میں ہونے والا جوہری معاہدہ ہے، جسے امریکا نے 2018 میں یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔ اس کے بعد ایران نے بھی معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی شروع کر دی تھی، جس نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید خراب کر دیا۔
باقر قالیبف کی پوسٹ کے ساتھ ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کے آرٹیکل 5 کا امیج بھی شامل تھی، جسے 18 جون کے فریم ورک معاہدے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ آرٹیکل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ہے، جب کہ امیج میں اس جملے کو نمایاں کیا گیا تھا: ’’اسلامی جمہوریہ ایران انتظامات کرے گا۔‘‘
اس بیان کے پس منظر میں یہ بھی یاد رہے کہ ایران نے حالیہ برسوں میں خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے اقدامات نے نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات میں تناؤ پیدا کیا ہے۔
ایران کی جانب سے اس طرح کے بیانات اور اقدامات کا مقصد نہ صرف داخلی سطح پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے موقف کو مضبوط کرنا ہے۔ ایران کی مسلح افواج اور پاسداران انقلاب نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں، چاہے اس کے لیے انہیں عسکری طاقت کا استعمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
ایران کے اس موقف کے جواب میں، امریکا نے بھی جنوبی ایران میں ریڈار، میزائل اور ڈرون تنصیبات پر حملوں کا تیسرا دور شروع کیا ہے۔ یہ حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور ایران کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں، آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کی صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان یہ کشیدگی بین الاقوامی تجارت، خاص طور پر توانائی کی ترسیل پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان یہ کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو کہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کیے گئے حالیہ بیانات اور اقدامات کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ایران کے اندرونی سیاست کا ایک حصہ ہیں۔ ایران کی حکومت نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ وہ عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بیرونی خطرات کا ذکر کرے۔ ایسے حالات میں، جب ملک اقتصادی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، حکومت کی جانب سے بیرونی دشمنوں کے خلاف سخت رویہ اپنانا عوامی حمایت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، ایران کی جانب سے اس طرح کے بیانات بین الاقوامی سطح پر بھی ایک پیغام دیتے ہیں کہ وہ اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ پیغام خاص طور پر ان ممالک کے لیے اہم ہے جو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، کیونکہ یہ ان کے لیے ایک اشارہ ہے کہ ایران کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔
ایران کی اس صورتحال میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ خطے میں دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایران کے تعلقات دیگر خلیجی ممالک، جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ ممالک بھی خطے میں ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت سے پریشان ہیں، اور ان کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نوعیت مستقبل میں خطے کی سیکیورٹی کے لیے اہم ہو گی۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کیے گئے حالیہ بیانات اور اقدامات کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ یہ بین الاقوامی سطح پر ایران کی حیثیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگر ایران کے خلاف بین الاقوامی سطح پر مزید پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو اس کے نتیجے میں ایران کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس تمام صورتحال کے پیش نظر، یہ کہنا مشکل ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، یا پھر کوئی نئی بات چیت یا مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ بات واضح ہے کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور اس کے ارد گرد کی صورتحال عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی رہے گی، اور اس کے اثرات بین الاقوامی تجارت اور معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی جغرافیائی حیثیت اسے بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک اہم نقطہ بناتی ہے۔ یہ آبنائے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ سنبھالتی ہے۔ اس کی اہمیت کی وجہ سے، اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا عدم استحکام کا اثر عالمی منڈیوں پر فوری طور پر پڑ سکتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا تنازع ہوتا ہے تو اس کے اثرات دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں اور رسد پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، ایران کی عسکری حکمت عملی بھی ایک اہم پہلو ہے۔ ایران نے اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور اس نے اپنی فوجی طاقت کو بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے، اور ایران کی عسکری طاقت کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے دیگر ممالک کے لیے تشویش پیدا کی ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کیے گئے حالیہ بیانات اور اقدامات کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ یہ بین الاقوامی سطح پر ایران کی حیثیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگر ایران کے خلاف بین الاقوامی سطح پر مزید پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو اس کے نتیجے میں ایران کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ تمام عوامل مل کر ایک پیچیدہ صورت حال پیدا کر رہے ہیں، جہاں بین الاقوامی تعلقات، اقتصادی مفادات، اور عسکری حکمت عملی آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ آگے کیا ہوگا، لیکن یہ بات واضح ہے کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور اس کے ارد گرد کی صورتحال عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی رہے گی، اور اس کے اثرات بین الاقوامی تجارت اور معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
To learn more about the latest developments in Political Controversies, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.