سول جوہری معاہدہ، ابراہیمی معاہدوں میں سعودی عرب کی شمولیت سے مشروط

ALN NEWS DESK
اے ایل این نیوز ڈیسک
آخری اپڈیٹ : جمعرات 23 جولائی 2026 18:12
7 min read
  • linkedin
  • twitter
  • facebook
  • instagram
  • whatsapp

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی محکمہ توانائی سعودی عرب میں سول جوہری معاہدہ منظور کر لے گا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ معاہدہ مکمل طور پر ابراہیمی معاہدوں میں سعودی عرب کی شمولیت سے مشروط ہے، امریکا غیرافزودہ سول جوہری تنصیبات کیخلاف نہیں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا، سعودی سول جوہری معاہدے میں جوہری مواد کی افزودگی شامل نہیں، سول جوہری معاہدہ صرف غیرفوجی استعمال کیلئے ہے۔ ایسے سول جوہری معاہدے ایران، یواےای و دیگر ممالک کے پاس پہلے سے ہیں۔

سعودی عرب کے لئے یہ معاہدہ ایک اہم پیشرفت ہو سکتی ہے کیونکہ ماضی میں سعودی عرب نے جوہری توانائی کے حصول کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ سعودی عرب کی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری توانائی کو صرف توانائی کی پیداوار کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے، نہ کہ جوہری ہتھیاروں کے لئے۔

سعودی عرب نے اپنے توانائی کے شعبے میں خودکفالت کی کوششوں کے تحت جوہری توانائی کے استعمال کی بات کی ہے۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ عالمی توانائی کی مارکیٹ میں ایک اہم کھلاڑی بننا چاہتا ہے، اور اس کے لئے جوہری توانائی ایک قابل اعتبار ذریعہ ہے۔

اسرائیل

امریکا سعودی سول جوہری معاہدے کی خبروں پر اسرائیل میں تشویش اور غصہ پایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی اپوزیشن نے امریکا سعودی ڈیل کو اسرائیل کے لئے اسٹریٹجک تباہی قرار دے دیا۔

بدھ کے روز نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد اسرائیل میں غصے اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ امریکا نے سعودی عرب کو سول جوہری پروگرام فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی اہم پالیسیوں میں سے ایک کی منظوری دیتے ہوئے ریاض کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت سعودی عرب کو اپنے ملک میں یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔

اسرائیلی سیاست دانوں نے سوشل میڈیا پر اس معاہدے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ بعض کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے سلامتی کے مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ایک اور ناکامی کی نشان دہی کرتا ہے۔

سابق وزیر دفاع اویگدور لائیبرمین نے کہا کہ سعودی عرب کا سول جوہری پروگرام بالآخر جوہری ہتھیاروں پر منتج ہوگا اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں ہتھیاروں کی ایک شدید دوڑ شروع کر دے گا۔ اسرائیل کو واضح اور دوٹوک انداز میں اعلان کرنا چاہیے کہ ہم اس معاہدے کی بھرپور مخالفت کریں گے۔

انھوں نے کہا امریکا سعودی عرب جوہری معاہدہ ہرگز قابل قبول نہیں ہے، سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دینا ایک سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف ہے۔ لائبرمین نے کہا اسرائیلی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاہدے کی مخالفت کرے اور امریکی کانگریس کو اسے مسترد کرنے پر آمادہ کرے، چاہے اس کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اختلاف ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

بائیں بازو کی جماعت دی ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان نے براہِ راست نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا موقع گنوا دیا بلکہ سعودی عرب کی جوہری صلاحیت کے حصول کی راہ بھی ہموار کر دی۔

انھوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو نے اسرائیل کو ایک تنہا اور عالمی سطح پر الگ تھلگ ریاست میں تبدیل کر دیا ہے، جو محض تماشائی بنی ہوئی ہے، جب کہ دوسرے ممالک ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو آنے والی کئی دہائیوں تک اسرائیل کی سلامتی پر اثر انداز ہوں گے۔

یہ صورتحال مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں ایک نیا موڑ لانے کی توقع کر رہی ہے۔ سعودی عرب کی جوہری صلاحیتوں میں اضافے کے امکان نے خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے پس منظر میں۔

ایران نے بارہا یہ انتباہ کیا ہے کہ اگر سعودی عرب نے جوہری ہتھیاروں کی ترقی کی کوشش کی تو وہ بھی اپنی جوہری صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا، جس سے خطے میں ایک نئی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کو یقین دلانے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کا پروگرام مکمل طور پر شفاف ہوگا اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو اس کی نگرانی کی اجازت ہوگی۔

اس کے علاوہ، یہ معاہدہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لئے جو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی پاسداری کرتے ہیں۔ سعودی عرب کا جوہری پروگرام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک کس طرح عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنی حیثیت کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ معاہدہ ایک طرف تو سعودی عرب کو توانائی کی خودکفالت کی جانب گامزن کر سکتا ہے، لیکن دوسری طرف اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تناؤ اور کشیدگی خطے کی سلامتی کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔

سعودی عرب کی حکومت نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اس کا مقصد صرف توانائی کی پیداوار کو بڑھانا ہے، مگر اسرائیل اور دیگر ہمسایہ ممالک کی جانب سے اس معاہدے پر تنقید اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے میں اس کی ممکنہ اثرات پر گہرائی سے غور کیا جا رہا ہے۔

اس معاہدے کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے بین الاقوامی ماہرین اور تجزیہ کاروں کی نظر اس پر ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کی راہ ہموار کرے گا یا مزید تناؤ اور کشیدگی کا باعث بنے گا۔

یہ صورتحال عالمی سطح پر بھی ایک اہم مسئلہ بن سکتی ہے، کیونکہ جوہری توانائی کے استعمال کے حوالے سے مختلف ممالک کے موقف میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں عالمی برادری کی جانب سے سعودی عرب کے جوہری پروگرام پر نظر رکھنے کی ضرورت بڑھ جائے گی۔

یہاں تک کہ اگر سعودی عرب اپنے جوہری پروگرام کو صرف توانائی کی پیداوار کے لئے استعمال کرنے کا عزم رکھتا ہے، تو بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لئے بین الاقوامی برادری کی نگرانی ضروری ہو گی۔

اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو جوہری مواد کی افزودگی کی اجازت دینا ایک ایسا معاملہ ہے جس پر بین الاقوامی سطح پر بحث جاری رہے گی، اور اس کی ممکنہ اثرات کے بارے میں مختلف نقطہ نظر موجود ہیں۔

اس کے علاوہ، اس معاہدے کے نتیجے میں سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں بھی تبدیلیاں آ سکتی ہیں، خاص طور پر اس کی ایران کے ساتھ تعلقات میں۔

یہ معاہدہ نہ صرف سعودی عرب کے لئے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لئے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والے کئی سالوں تک محسوس کئے جا سکتے ہیں۔

اس پس منظر میں، یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا سعودی عرب اس معاہدے کو کامیابی کے ساتھ نافذ کرنے میں کامیاب ہو گا اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے جائیں گے۔

آخر میں، یہ کہنا کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کی توانائی کی خودکفالت کے لئے ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس کی ممکنہ اثرات کی نگرانی کرنا بھی ضروری ہے تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔

Get More Updates

To learn more about the latest developments in Elections, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.

Related News