پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے کہا ہے کہ امریکا اپنی فوجی شکست کا بدلہ لینے کے لیے ایران پر مسلسل حملے کر رہا ہے، مگر ایرانی افواج بھرپور جواب دے رہی ہیں۔
اسلام آباد، پاکستان ۱۹ جولائی، ۲۰۲۶ ALN: پاسداران انقلاب، جو کہ ایران کی اسلامی فوجی اور سیاسی طاقت کا ایک اہم حصہ ہے، نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ایران پر مسلسل حملے کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی فوجی شکست کا بدلہ لے سکے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاسداران انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج نے ان حملوں کا بھرپور جواب دیا ہے اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول مکمل طور پر ایران کے ہاتھ میں ہے۔
پاسداران انقلاب کے سیاسی امور کے نائب کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل یداللہ جیوانی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے اردن، کویت، عمان اور دیگر ممالک میں قائم بیسز پر حملوں کے نتیجے میں بھاری نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ حملے جاری رہیں گے، جو کہ ایک خطرناک علامت ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں فوجی تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بیان اس وقت آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بگاڑ آیا، جس کے بعد امریکہ نے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں اور ایران کی جوہری سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ حالیہ برسوں میں، یہ تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں، خاص طور پر جب امریکہ نے 2018 میں جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی۔
جنرل جیوانی نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ اس جنگ میں اپنی شکست کا مداوا کرے اور آبنائے ہرمز میں جنگ سے پہلے والی شرائط کی بحالی کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بات اہم ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایران نے اس علاقے میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھایا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس راستے پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔
ایران کی مسلح افواج کی جانب سے یہ دعویٰ کہ انہوں نے امریکی حملوں کا جواب دیا ہے، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔ جنرل جیوانی نے کہا کہ جنہوں نے سپریم لیڈر کو شہید کیا، انہیں سزا دینے کا وقت آ گیا ہے، اور ان افراد کو نیند اور آرام بھول جانا چاہیے۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران اپنے دشمنوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے، جنرل جیوانی نے کہا کہ ایران کا کنٹرول اسٹریٹجک بحری گزرگاہ پر طاقت کے توازن کو بنیادی طور پر تبدیل کر چکا ہے۔ امریکہ کی جانب سے اس کنٹرول کو چیلنج کرنے کی کوششیں، بشمول فوجی جارحیت اور بحری ناکابندی، ایران کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس کے باوجود، ایران نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ اس علاقے میں اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔
ایران کی مسلح افواج نے یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے فوجی یا شہری اہداف پر کیے گئے حملوں کا فیصلہ کن جواب دیا ہے۔ یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران اپنے شہریوں اور فوجی اہلکاروں کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ جنرل جیوانی نے کہا کہ امریکہ کے حملے چاہے کتنے بھی شدید ہوں، ایرانی مسلح افواج نے اردن، بحرین، کویت، عمان اور دیگر ممالک میں امریکی مراکز کو تباہ کیا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات کے لیے خطرناک ہے بلکہ اس کا اثر پورے خطے پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اگرچہ ایران نے اپنی فوجی طاقت کو بڑھایا ہے، لیکن امریکہ بھی اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں، خطے میں ایک نئی جنگ کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے، جو نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
اس کشیدگی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ خطے میں دیگر ممالک، جیسے کہ سعودی عرب اور اسرائیل، ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے پریشان ہیں۔ یہ ممالک ایران کے خلاف امریکہ کی حمایت کر رہے ہیں اور اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کی فوجی طاقت کو محدود کیا جائے۔ اس کے نتیجے میں، خطے میں ایک نئی سرد جنگ کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے، جو کہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
اس تمام صورت حال کے پیش نظر، یہ کہنا مشکل ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ کشیدگی کا کوئی فوری حل نظر نہیں آتا، اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا کوئی امکان بھی نظر نہیں آتا۔ اس کے علاوہ، اگر امریکہ نے اپنی فوجی موجودگی کو بڑھایا تو ایران بھی اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کرے گا، جس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا۔
پاسداران انقلاب کا یہ بیان اور اس کے پیچھے موجود نظریات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ یہ صورت حال نہ صرف ایران کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑی چیلنج بن سکتی ہے۔ اگرچہ ایران نے اپنی فوجی طاقت کو بڑھایا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے بین الاقوامی سطح پر بھی چیلنجز کا سامنا ہے، خاص طور پر امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے نتیجے میں۔
اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے، بین الاقوامی برادری کو اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کس طرح اس کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ممکنہ طور پر مذاکرات کی ضرورت ہو گی، لیکن اس کے لیے دونوں فریقین کو ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے پر آمادہ ہونا ہوگا۔
اس کشیدگی کی ایک اور اہم جہت یہ ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ عالمی تیل کی مارکیٹ میں ایران کی موجودگی اور اس کے تیل کی برآمدات، جو کہ پابندیوں کے باوجود بھی جاری ہیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران عالمی توانائی کی مارکیٹ میں ایک اہم کھلاڑی ہے۔
ایران کی جانب سے اپنی فوجی طاقت میں اضافہ اور امریکہ کی جانب سے فوجی موجودگی میں اضافہ، دونوں ہی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں ایک بڑی جنگ کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست جنگ کی صورت حال ابھی تک نہیں بنی ہے، لیکن دونوں جانب سے جاری بیانات اور فوجی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ کشیدگی کسی بھی وقت ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے یہ بیانات اور ان کے پیچھے موجود نظریات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ یہ صورت حال نہ صرف ایران کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑی چیلنج بن سکتی ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی برادری کو اس کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں، لیکن یہ کوششیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوں گی جب تک دونوں فریقین ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے پر تیار نہ ہوں۔
To learn more about the latest developments in Political Controversies, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.