ہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی نہیں بیچ سکے گا، باقر قالیباف

ALN NEWS DESK
اے ایل این نیوز ڈیسک
آخری اپڈیٹ : جمعرات 23 جولائی 2026 12:15
7 min read
  • linkedin
  • twitter
  • facebook
  • instagram
  • whatsapp

ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران تیل نہیں بیچتا تو کوئی اور بھی تیل نہیں بیچ سکے گا۔

واشنگٹن (23 جولائی 2026): ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ ‘‘اگرہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی تیل نہیں بیچ سکے گا۔’’ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور آبنائے ہرمز کی سٹریٹجک اہمیت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔

ایران کی یہ دھمکی اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اپنی توانائی کی برآمدات کو ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ دنیا کے تیل کی تجارت میں ایران کا کردار بہت اہم ہے، خاص طور پر جب بات آبنائے ہرمز کی ہو، جو کہ عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس گزرگاہ کے ذریعے روزانہ تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، جو کہ عالمی معیشت کے لیے ایک اہم حیثیت رکھتا ہے۔

چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے بدھ کے روز متنبہ کیا کہ آبنائے ہرمز کی صورت حال اب جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، اس جنگ کا اصول واضح ہے، یا سب یا کوئی نہیں، جہاں ہم تیل فروخت نہیں کریں گے وہاں کوئی اور بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔ اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کا آغاز کیا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو تیل کی تجارت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ اگر ہماری سلامتی یقینی نہیں تو کسی کی بھی سلامتی محفوظ نہیں رہے گی، آبنائے ہرمز کا تحفظ امریکی افواج کی عدم موجودگی سے وابستہ ہے۔ یہ بیان اس وقت آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اپنی انتہا پر پہنچ چکی ہے، اور دونوں ممالک کے مابین مذاکراتی عمل میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

ایران کی یہ دھمکی کہ وہ تیل کی فروخت روک دے گا اگر اسے اپنی سلامتی کی ضمانت نہیں ملی، ایک خطرناک پیغام ہے جو عالمی سطح پر تیل کی رسد کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگر ایران اپنے عزم پر قائم رہتا ہے تو اس سے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت میں بھی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں قالیباف نے کہا کہ موجودہ تنازع ‘‘سب یا کوئی بھی نہیں’’ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ انھوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر ایران کی سلامتی کی ضمانت نہیں دی گئی تو ‘‘کوئی بھی انفرااسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا۔” یہ الفاظ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایران کی قیادت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر تیل کی رسد میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر حالات مزید خراب ہوتے ہیں۔

ایران بارہا یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ اگر تجارتی جہاز اس کے نئے بحری انتظامات کے تحت تہران کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی رکھیں تو آبنائے ہرمز سے ان کی آمد و رفت محفوظ رہے گی۔ تاہم ایران نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی طویل مدتی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔ یہ کنٹرول نہ صرف ایران کی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی توانائی کی مارکیٹ کے لیے بھی ایک اہم عنصر ہے۔

آبنائے ہرمز، جو کہ خلیج فارس کو عمان کے سمندر سے ملاتا ہے، دنیا کی تیل کی تجارت کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس گزرگاہ کے ذریعے روزانہ تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، جو کہ عالمی معیشت کے لیے ایک اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، کسی بھی قسم کی کشیدگی یا تنازعہ کا براہ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے، جو کہ دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

ایران کی قیادت کے ان بیانات نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا ایران کی دھمکیاں صرف زبانی ہیں یا یہ حقیقت میں عمل میں لائی جائیں گی۔ اگرچہ ایران نے بار بار یہ کہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے تیار ہے، لیکن عالمی برادری کی جانب سے اس کی دھمکیوں کا جواب کیا ہوگا، یہ دیکھنا باقی ہے۔

اس کے علاوہ، اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا تو یہ ایک نئی جنگ کی شروعات کا سبب بن سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ عالمی طاقتیں، خاص طور پر امریکہ، اس صورتحال کو قریب سے دیکھ رہی ہیں اور اس کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہیں۔

ایران کی جانب سے یہ بیانات اس کی داخلی سیاست کے لیے بھی اہم ہیں، جہاں حکومت کو عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے سخت موقف اختیار کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال ایران کی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب کہ ملک پہلے ہی اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے۔

اس تمام صورتحال میں، بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ایک متوازن نقطہ نظر اپنائے اور اس تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ اگرچہ کشیدگی بڑھ رہی ہے، لیکن مذاکرات اور بات چیت ہی اس مسئلے کا حل ہیں۔

ایران کی قیادت کے بیانات اور امریکہ کی دھمکیوں کے درمیان پیدا ہونے والی اس کشیدگی کا اثر عالمی سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے اور اس کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ دنیا کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ اس صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرے اور اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے۔

آخر میں، یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اس صورتحال کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان ہے بلکہ اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ایران کی یہ دھمکی کہ اگر ہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی نہیں بیچ سکے گا، دراصل ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ ایران کی سلامتی کا براہ راست تعلق عالمی توانائی کی مارکیٹ سے ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ایران کے اس موقف نے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے خدشات کو بھی جنم دیا ہے، جو کہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے ساتھ ساتھ، یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ دیگر ممالک، خاص طور پر تیل پیدا کرنے والے ممالک، اس صورتحال کا کس طرح جواب دیتے ہیں۔ اگر ایران اپنی دھمکیوں پر عمل درآمد کرتا ہے تو یہ نہ صرف تیل کی عالمی مارکیٹ بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کا توازن کس طرح تبدیل ہو رہا ہے، اور کس طرح ممالک اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سخت موقف اختیار کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو مستقبل میں عالمی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، اور عالمی برادری کو اس کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

Get More Updates

To learn more about the latest developments in Elections, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.

Related News