وائٹ ہاؤس کی ترجمان کرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ ایران اب بھی امریکہ کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے، حالانکہ حالیہ حملوں کے باوجود تہران رابطے میں ہے۔
اسلام آباد، پاکستان ۱۶ جولائی، ۲۰۲۶ ALN: واشنگٹن (16 جولائی 2026): ترجمان وائٹ ہاؤس کرولین لیوٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب بھی چاہتا ہے کہ امریکا کے ساتھ ڈیل (معاہدہ) ہو جائے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان وائٹ ہاؤس نے حالیہ پریس بریفنگ میں بتایا کہ مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کے جواب میں ایران پر ہمارے حالیہ حملے کیے، لیکن تہران اب بھی ہمارے ساتھ رابطے میں ہے، وہ اب ہمارے حملوں کو روکنے کے قابل نہیں رہا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کی توسیع اور مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے خلاف سرگرمیوں کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔
کرولین لیوٹ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت کے درمیان تقسیم پائی جاتی ہے۔ اس تقسیم کی ایک بڑی وجہ مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان اختلافات ہیں۔ کچھ ایرانی رہنما ایسے ہیں جو معاہدہ کرنے کے حق میں ہیں، جبکہ دوسروں کا خیال ہے کہ امریکا کے ساتھ بات چیت کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال ایران کی داخلی سیاست میں عدم استحکام کی علامت بھی ہے، جہاں مختلف گروہ ایک دوسرے کے خلاف ہیں اور قومی مفادات کے بارے میں مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کرولین لیوٹ نے کہا کہ وہ معاملے کے سفارتی حل کے لیے تیار ہیں۔ یہ ایک مثبت اشارہ ہو سکتا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کچھ اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، یہ بھی واضح ہے کہ اس عمل میں کئی چیلنجز موجود ہیں۔
ایران کی طرف سے حالیہ دنوں میں کیے جانے والے اقدامات، جیسے کہ جوہری مواد کی مقدار میں اضافہ اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی، نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے تشویش پیدا کی ہے۔ اس کے علاوہ، ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھانے کے اقدامات نے بھی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
اس صورتحال کے تناظر میں، سعودی عرب نے بھی ایران سے فوجی کشیدگی فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت کا یہ موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اس کی سرگرمیوں سے پریشان ہے، جو کہ خطے میں استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
کرولین لیوٹ نے مزید کہا کہ ایران میں قیادت کی تقسیم ہے، کچھ رہنما معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دیگر اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ بات چیت میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ اختلافات ایران کی خارجہ پالیسی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب بات جوہری معاہدے کی ہو۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کی ہیں، جو کہ ایران کی معیشت پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں ایران کے لیے اقتصادی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ ممکن ہے کہ ایرانی قیادت اس صورتحال کا حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کی طرف بڑھنے پر مجبور ہو جائے۔
پریس بریفنگ میں ترجمان نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں شرکت کریں گے۔ یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ اس ایونٹ کے دوران بین الاقوامی تعلقات میں بھی کچھ تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ اگرچہ کھیلوں کے ایونٹس عموماً سیاسی مسائل سے علیحدہ سمجھے جاتے ہیں، مگر عالمی سطح پر کھیلوں کے ایونٹس اکثر ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے یہ بھی اہم ہے کہ بین الاقوامی برادری، خاص طور پر یورپی ممالک، ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ یورپی ممالک کا یہ خیال ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ہی ایران کے جوہری پروگرام کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، اور اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ ڈیل کی صورت میں، اس کے اثرات نہ صرف دوطرفہ تعلقات پر پڑیں گے بلکہ اس کے خطے کے دیگر ممالک پر بھی دوررس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ خطے میں دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال قائم کر سکتا ہے، جو کہ اپنے مسائل کے حل کے لیے بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم، اس کے برعکس، اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جس سے خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ایران کی جانب سے جوابی اقدامات بھی ممکن ہیں، جو کہ علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
اس تمام صورتحال کے پیش نظر، یہ کہنا مشکل ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات کس سمت میں بڑھیں گے۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی ضرورت ہے، اور یہ بات چیت نہ صرف ان کے اپنے مفادات کے لیے اہم ہے بلکہ خطے اور عالمی امن کے لیے بھی ضروری ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام کی تاریخ کافی پیچیدہ ہے، جس میں بین الاقوامی برادری کی جانب سے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ 2000 کی دہائی کے اوائل میں، ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کیا، جس کے نتیجے میں کئی سالوں تک مذاکرات اور پابندیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 2015 میں، ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پایا، جسے مشترکہ جامع عملدرآمد منصوبہ (JCPOA) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت، ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ اس کے بدلے میں اس پر عائد اقتصادی پابندیاں نرم کی گئیں۔
تاہم، 2018 میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکلنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد ایران نے بھی اپنی جوہری سرگرمیوں میں اضافہ کیا۔ اس کے نتیجے میں، ایران کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، جس نے کشیدگی کو بڑھایا۔
ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں اب بھی جاری ہیں، مگر ان میں کامیابی کی ضمانت نہیں۔ بین الاقوامی برادری اس بات کی خواہاں ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو کنٹرول میں رکھے، تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم رہے۔ اس کے علاوہ، ایران کی علاقائی سرگرمیاں، جیسے کہ شام، عراق اور یمن میں مداخلت، بھی بین الاقوامی تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
ایران کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں اس کی داخلی سیاست سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ ایران کے اندر مختلف سیاسی دھڑے ہیں، جن میں سخت گیر اور معتدل دونوں شامل ہیں۔ یہ اختلافات نہ صرف ایران کی داخلی سیاست پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ اس کی خارجہ پالیسی کے فیصلوں پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔
اس وقت ایران کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنے تعلقات کو بہتر بنائے اور اقتصادی مشکلات سے نکلنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ اگرچہ یہ ایک مشکل عمل ہے، مگر یہ ایران کے لیے ایک اہم موقع ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی معیشت کو مستحکم کرے اور عالمی برادری کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات پر پڑتا ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے یہ ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا راستہ کھلا رہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ تنازعے سے بچا جا سکے۔
آخر میں، یہ کہنا ضروری ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے دونوں طرف سے مثبت اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو یہ نہ صرف ان کے اپنے مفادات کے لیے بلکہ خطے اور عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی برادری کی حمایت بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاکہ ایک جامع اور دیرپا حل تلاش کیا جا سکے۔
To learn more about the latest developments in Politics, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.