کراچی میں ایک بلڈر سے 5 کروڑ روپے بھتہ طلب کیا گیا ہے، نہ دینے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ انتظامیہ کے دعووں کے باوجود بھتہ خوری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اسلام آباد، پاکستان ۱۷ جولائی، ۲۰۲۶ ALN: کراچی (17 جولائی 2026): شہر قائد میں بھتہ خوری کی وارداتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جب ایک بلڈر سے 5 کروڑ روپے بھتہ طلب کیے گئے ہیں۔ اس واقعے میں نہ صرف بھتہ کی طلب کی گئی بلکہ جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے، جو کہ شہر میں جاری بھتہ خوری کے مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور اقتصادی مرکز، کئی دہائیوں سے بھتہ خوری کی لعنت سے متاثر ہے۔ شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی، معاشی مسائل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی نے بھتہ خوری کی وارداتوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں کاروباری افراد اور سرمایہ کار خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ حالیہ واقعہ میں، ایک بلڈر کو بھتہ خوروں کی جانب سے 5 کروڑ روپے کی طلب کی گئی، جس نے شہر میں بھتہ خوری کی بڑھتی ہوئی لہر کی عکاسی کی ہے۔
تازہ ترین واقعہ کراچی کے تھانہ منگھوپیر کے علاقے میں پیش آیا، جہاں سائٹ انچارج حسن نعمان نے بھتہ خوروں کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ مقدمے میں بیان دیا گیا ہے کہ بھتہ خوروں نے پہلے ٹریلر دکھایا اور پھر بھتہ طلب کیا۔ یہ ایک عام طریقہ کار ہے جس کے ذریعے بھتہ خور اپنے متاثرین کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مدعی مقدمہ کے مطابق، وہ اپنے دفتر میں کام کر رہا تھا جب اچانک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ سیکیورٹی گارڈ نے انہیں بتایا کہ موٹرسائیکل سوار دو ملزمان نے فائرنگ کی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فائرنگ کرنے والے افراد شلوار قمیض میں ملبوس تھے، جو کہ مقامی ثقافت کا حصہ ہے، اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ افراد مقامی ہیں۔
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں دفتر میں موجود سیکیورٹی گارڈ سمیت دیگر افراد معجزانہ طور پر محفوظ رہے، حالانکہ آفس کی دیواریں، بورڈ اور دیگر جگہوں پر گولیاں لگیں۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ بھتہ خوروں کی نیت جان لیوا تھی، مگر خوش قسمتی سے کوئی بھی شخص زخمی نہیں ہوا۔
ایف آئی آر کے مطابق، فائرنگ کے بعد مدعی کو ایک غیر ملکی نمبر سے کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والے نے خود کو لیاری گینگ وار کے صمد کاٹھیا واڑی گروپ سے تعلق رکھنے والا بتایا اور 5 کروڑ روپے بھتہ مانگا۔ یہ بات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھتہ خوروں کے پیچھے منظم جرائم کی تنظیمیں موجود ہیں جو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔
مدعی مقدمہ نے مزید کہا کہ بھتہ نہ دینے کی صورت میں انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں، جو کہ اس واقعے کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے۔ یہ دھمکیاں صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ اس کے خاندان اور کاروبار کو بھی متاثر کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں خوف و ہراس کی ایک لہر پھیل جاتی ہے۔
کراچی میں بھتہ خوری کا مسئلہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے۔ کئی سالوں سے، مختلف حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود، بھتہ خوری کی وارداتیں کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں معاشی بدحالی، بے روزگاری، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عدم موجودگی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، شہر میں موجود مختلف گینگز، جیسے کہ لیاری گینگ وار، نے بھتہ خوری کو ایک منافع بخش کاروبار بنا لیا ہے۔ یہ گینگز نہ صرف بھتہ خوری کرتی ہیں بلکہ دیگر جرائم جیسے کہ اسمگلنگ، منشیات کی تجارت، اور قتل و غارت بھی کرتی ہیں۔ ان گینگز کے خلاف کارروائی کرنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
حکومت نے بھتہ خوری کے خلاف سخت قوانین متعارف کروائے ہیں، لیکن ان کا نفاذ ایک بڑی مشکل بن گیا ہے۔ بعض اوقات، متاثرہ افراد خوف کی وجہ سے پولیس میں شکایت کرنے سے گریز کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بھتہ خوروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، بعض افراد یہ بھی مانتے ہیں کہ پولیس بعض اوقات بھتہ خوروں کے ساتھ ملی بھگت کرتی ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ افراد کو انصاف نہیں ملتا۔
یہ واقعہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں ہے بلکہ اس سے کراچی کے کاروباری ماحول پر بھی اثر پڑتا ہے۔ جب کاروباری افراد بھتہ خوری کے خوف میں زندگی گزاریں گے، تو وہ نئے سرمایہ کاری کے مواقع کو نظر انداز کریں گے، جس کے نتیجے میں شہر کی معیشت متاثر ہوگی۔ اس کے علاوہ، یہ صورتحال شہر کی ترقی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کی عدم موجودگی میں ترقیاتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس واقعے کے بعد، شہریوں کی جانب سے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت اس مسئلے کا حل کب نکالے گی اور کب تک شہری اس خوف میں زندگی گزاریں گے۔
اس کے ساتھ ہی، متاثرہ بلڈر اور اس کے ساتھیوں کو بھی اپنی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی میں اضافہ کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔
آخر میں، یہ واقعہ کراچی میں بھتہ خوری کی بڑھتی ہوئی لہر کی ایک اور مثال ہے، جو کہ شہریوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
کراچی کی بھتہ خوری کی تاریخ کو دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف موجودہ دور کا نہیں ہے، بلکہ یہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ 1980 کی دہائی کے اوائل میں، بھتہ خوری کا آغاز ہوا جب مختلف منظم جرائم کی تنظیمیں شہر میں اس کاروبار میں داخل ہوئیں۔ اس وقت سے، یہ مسئلہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا ہے، اور اب یہ ایک منظم اور منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔
شہر کی معاشی صورت حال بھی بھتہ خوری کی بڑھتی ہوئی لہر میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بے روزگاری اور اقتصادی بدحالی نے لوگوں کو جرائم کی طرف مائل کیا ہے۔ جب لوگ اپنے روزگار کے مواقع کو کھو دیتے ہیں تو وہ غیر قانونی طریقوں سے پیسہ کمانے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں بھتہ خوری بھی شامل ہے۔
شہریوں کی حفاظت کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات بھی ناکافی نظر آتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بھتہ خوری کے خلاف کارروائیاں اکثر ناکام رہتی ہیں، جس کے نتیجے میں بھتہ خوروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ جب متاثرہ افراد کو انصاف نہیں ملتا، تو یہ جرائم کی مزید حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
اس کے علاوہ، بھتہ خوری کے واقعات کا میڈیا میں کوریج بھی اس مسئلے کی شدت کو بڑھاتا ہے۔ جب ایسے واقعات کو زیادہ کوریج ملتی ہے تو یہ دیگر جرائم پیشہ افراد کو بھی اس طرف مائل کرتا ہے، جس سے بھتہ خوری کے واقعات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر، کراچی میں بھتہ خوری کا مسئلہ ایک پیچیدہ اور گہرا مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے جامع اور مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، اور شہریوں کو مل کر اس مسئلے کا سامنا کرنا ہوگا تاکہ شہر کو اس خطرے سے محفوظ بنایا جا سکے۔
To learn more about the latest developments in Crime & Law, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.