آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی کے دوران امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں دو ایرانی فوجی شہید ہوگئے۔
اسلام آباد، پاکستان ۱۲ جولائی، ۲۰۲۶ ALN: (12 جولائی 2026): آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی جہاں امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے کیے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں ایران کے دو فوجی شہید ہوگئے جن میں بحریہ کے لیفٹیننٹ حامد رضا دہقانی بھی شامل ہیں جو بندر گاہ جاسک پر حملے میں نشانہ بنے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی بحریہ نے اپنی کارروائیوں کو تیز کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔
بوشہر میں بھی ایرانی فوج کا ایک اہلکار شہید ہوگیا، جس کے بعد چار روز میں امریکی حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 19 ہوگئی۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اثرات خطے کی سلامتی اور عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
امریکی حملوں میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں عام شہری بھی شامل ہیں۔ یہ امر تشویش کا باعث ہے کہ عام شہریوں کی جانوں کا ضیاع اس تنازعے کی شدت کو بڑھا رہا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی فوجی کارروائیاں بند کریں تاکہ مزید انسانی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔
قبل ازیں، ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ پاسداران انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو آئندہ اطلاع تک عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس علاقے میں کشیدگی کا اثر عالمی تیل کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتا ہے، جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (آئی آر آئی بی) کے مطابق آئی آر جی سی نیوی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں غیر ملکی مداخلت اور جہاز رانی کے لیے مبینہ طور پر غیر قانونی راستہ مقرر کرنے کی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران اپنی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔
پاسداران نیوی کے مطابق متعدد بحری جہازوں نے اپنے راستے کی درستی اور منظور شدہ بحری گزرگاہ اختیار کرنے سے متعلق انتباہات کو نظر انداز کیا۔ ایک جہاز نے مبینہ طور پر اپنے نیویگیشن سسٹمز بند کر دیے تھے اور بحری سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا تھا، راستہ تبدیل کرنے کا حکم نظر انداز کرنے پر اس پر انتباہی فائرنگ کی گئی۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سمندری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی فضا بڑھتی جا رہی ہے۔
یہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات بھی جاری ہیں۔ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث عالمی برادری میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ امریکی حکومت نے ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس کی وجہ سے ایران کی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
دوسری جانب، ایران نے بھی امریکا کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیا تو وہ سخت جواب دے گا۔ اس صورتحال نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے نتیجے میں ایک نئے جنگ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جو نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ عالمی برادری کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ ایک بڑے انسانی بحران سے بچا جا سکے۔
اس تناظر میں، بین الاقوامی برادری کو دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ اس تنازعے کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔ اگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے، لیکن عالمی امن اور سلامتی کے لیے یہ ضروری ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
عالمی تیل کی منڈیوں میں کشیدگی کے اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو یہ بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہوگی یا یہ ایک نئے جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس صورتحال کی نگرانی کرنے کے لیے بین الاقوامی اداروں کو بھی متحرک ہونا پڑے گا تاکہ انسانی جانوں کا ضیاع نہ ہو اور عالمی امن کو برقرار رکھا جا سکے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ یہاں سے گزرتے ہوئے تیل کے جہاز دنیا بھر کی معیشت کے لیے ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ راستہ بند ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات عالمی مارکیٹ پر فوری طور پر محسوس ہوں گے۔
اس کے علاوہ، ایران کی جانب سے اس علاقے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کے فیصلے نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے اپنی بحریہ کی طاقت میں اضافہ کیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مداخلت کے خلاف سخت اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
امریکا کی جانب سے ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد، ایران نے اپنے دفاعی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جس میں جدید ہتھیاروں کی خریداری اور اپنی فوجی تربیت میں اضافہ شامل ہے۔ یہ سب عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
علاوہ ازیں، عالمی برادری کی جانب سے اس بحران کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ مختلف ممالک نے اس تنازعے کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے، لیکن اب تک کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا جا سکا ہے۔ اس کے باوجود، بین الاقوامی اداروں کی کوششیں جاری ہیں تاکہ اس تنازعے کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔
کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری نہ رہا تو اس کے نتیجے میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے بین الاقوامی برادری کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اس تنازعے کے حل کے لیے ایک مثبت کردار ادا کرے۔
آخر میں، یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اس کشیدگی کا اثر نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے ممالک پر بھی پڑے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ممکنہ انسانی بحران سے بچنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
To learn more about the latest developments in Politics, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.