11:25 2026 جولائی 12 اتوار
از نمائندہ خصوصی
جموں و کشمیر کے سیاسی منظر نامے میں، خاص طور پر شمالی کشمیر کے پٹن حلقے میں، جاوید ریاض بیدار کی شخصیت ایک ایسے سیاسی نمائندے کے طور پر ابھری ہے جس کا پس منظر روایتی سیاستدانوں سے مختلف ہے۔ 2024 کے انتخابات میں 29,893 ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے والے ریاض بیدار کی قانون ساز اسمبلی میں موجودگی محض ایک عددی کامیابی نہیں ہے، بلکہ یہ ان کے طویل انتظامی کیریئر اور عوامی رابطے کا ایک فطری نتیجہ ہے۔ تاہم، سیاسی حلقوں میں یہ سوال مستقل زیر بحث ہے کہ آیا ریاض بیدار جیسا وسیع انتظامی اور قانونی تجربہ رکھنے والا شخص، جو بغیر کسی وزارت کے قلمدان کے بھی عوامی خدمات انجام دے رہا ہے، صوبائی سطح پر حکومتی پالیسیوں میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔
جاوید ریاض بیدار کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کی ابتدائی زندگی اور پیشہ ورانہ تیاری کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے 1972 میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد 1975 میں کشمیر یونیورسٹی سے ایل ایل بی مکمل کیا۔ یہ دور ان کی فکری نشوونما کا اہم مرحلہ تھا۔ ایک جانب سائنسی تعلیم (ایم ایس سی) نے انہیں معاملات کو منطقی بنیادوں پر دیکھنے کا شعور دیا، تو دوسری جانب قانون کی ڈگری (ایل ایل بی) نے انہیں حکومتی اور آئینی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی اہلیت بخشی۔
پولیس سروس میں بطور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ان کی طویل خدمات نے انہیں زمینی حقائق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حدود، اور عوام کی تکالیف کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ ایک ایس ایس پی کی حیثیت سے، انہوں نے ریاست کے مختلف حساس علاقوں میں ذمہ داریاں نبھائیں۔ یہ انتظامی تجربہ آج ان کے سیاسی فیصلوں میں نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک عام شہری کو انتظامیہ سے کیا توقعات ہوتی ہیں اور ان توقعات کو قانونی دائرہ کار میں رہ کر کیسے پورا کیا جا سکتا ہے۔
2024 کے انتخابات میں پٹن کے عوام نے ریاض بیدار پر جس اعتماد کا اظہار کیا، اس کا اندازہ 29,893 ووٹوں کی تعداد سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ مینڈیٹ کسی ایک مخصوص بستی کا نہیں، بلکہ پورے حلقہ انتخاب کا اجتماعی فیصلہ تھا۔ ان کا حلقہ انتخاب جغرافیائی اور معاشی اعتبار سے انتہائی متنوع ہے، جس میں درج ذیل علاقے شامل ہیں:
پٹن (Pattan): حلقے کا مرکزی حصہ جو تجارتی اور انتظامی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
پلہالن (Palhallan): ایک گنجان آباد علاقہ جہاں سماجی و سیاسی شعور بہت زیادہ ہے، اور جہاں عوامی مسائل کے حل کے لیے مستقل رابطے کی ضرورت ہوتی ہے۔
نیہالپورہ (Nihal Pora): زرعی اور دیہی مسائل سے دوچار یہ علاقہ بیدار کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے۔
متی پورہ (Mati Pora)، ہانجی ویر (Hanji Wera)، سلطان پورہ کھائی (Sultan Pora Khai)، ٹپر واری پورہ (Taper Wari Pora)، چوکر (Chukar)، سنگھ پورہ (Singh Pora)، اور سری وارہ پورہ (Siri Wara Pora): یہ تمام دیہات اپنی منفرد زرعی معیشت اور مقامی چیلنجز کے ساتھ ریاض بیدار کے حلقہ انتخاب کا حصہ ہیں۔
ان علاقوں کی تنوع کو دیکھتے ہوئے، ایک رکن اسمبلی پر ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ ہر بستی کے مسائل کو ان کی نوعیت کے مطابق سمجھے۔ ریاض بیدار کی حکمت عملی ان علاقوں کے مابین ایک توازن قائم کرنے کی رہی ہے، جہاں وہ مقامی سطح پر عوامی شکایات کے ازالے کے لیے کوشاں ہیں۔
زارت کا قلمدان نہ ہونا: سیاسی تجزیہ
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ریاض بیدار جیسے تجربہ کار شخص کو کابینہ یا وزارت میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر جیسے خطے میں، جہاں انتظامی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، ایک ایسا شخص جس نے زندگی کا ایک بڑا حصہ بطور ایس ایس پی گزارا ہو، اس کے پاس پالیسی سازی کی گہری سمجھ بوجھ ہوتی ہے۔
ریاض بیدار کو وزارت نہ ملنا ان کی عوامی خدمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا، مگر یہ جموں و کشمیر کے انتظامی نظام کے لیے ایک ضیاع ضرور ہے۔ ایک ایسا فرد جو قانون کی باریکیوں (ایل ایل بی) اور نظم و ضبط (ایس ایس پی) سے واقف ہو، اگر وہ کسی وزارت کا قلمدان سنبھالتا تو یقینی طور پر حکومتی کارکردگی میں بہتری آتی۔ اس وقت وہ ایک 'غیر سرکاری' خدمت گزار کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، جو ان کی ذاتی دیانتداری اور عوام کے ساتھ وابستگی کا ثبوت ہے۔
ریاض بیدار کا سب سے بڑا مرکزِ توجہ 'غریب طبقہ' اور 'کسان' رہے ہیں۔ خاص طور پر سیب کے کاشتکار (Apple Farmers)، جو وادی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کے مسائل بیدار صاحب کی ترجیحات میں سر فہرست ہیں۔
سیب کے کاشتکاروں کے مسائل: وادی میں سیب کی صنعت کو درپیش چیلنجز—جیسے کھادوں کی اونچی قیمتیں، منڈیوں میں رسائی، اور اسٹوریج کی سہولیات کی کمی—پر وہ مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک کسان کی محنت تب ہی رنگ لاتی ہے جب اسے اس کی پیداوار کا معقول معاوضہ ملے۔
غریب طبقے کی معاونت: کسی وزارت کے بغیر بھی، وہ اپنے حلقے کے غریب لوگوں کے لیے ایک سہارا بنے ہوئے ہیں۔ چاہے وہ حکومتی اسکیموں کا فائدہ ان تک پہنچانا ہو یا نجی سطح پر طبی اور تعلیمی اخراجات میں معاونت کرنا، ان کا کام ایک ایسے نمائندے کا ہے جو اقتدار کو خدمت کا ذریعہ مانتا ہے۔
انتظامی ہم آہنگی: بطور سابق ایس ایس پی، وہ جانتے ہیں کہ انتظامیہ کے ساتھ کیسے رابطہ قائم کرنا ہے تاکہ غریب شہریوں کو تھانے یا کچہری کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔ ان کا یہ کردار، اگرچہ غیر رسمی ہے، مگر عوامی سطح پر اسے بہت سراہا جاتا ہے۔
نیہالپورہ کا ذکر کیے بغیر ریاض بیدار کے کام کا احاطہ مکمل نہیں ہو سکتا۔ نیہالپورہ جیسے علاقوں میں بنیادی ڈھانچے، جیسے سڑکوں کی تعمیر، پانی کی سپلائی، اور بجلی کے نظام میں بہتری کے لیے انہوں نے جو اقدامات کیے ہیں، وہ ان علاقوں کے لوگوں کی زندگی میں نمایاں تبدیلی کا باعث بنے ہیں۔
دیگر علاقے جیسے سنگھ پورہ، چوکر، اور سری وارہ پورہ میں بھی انہوں نے تعلیمی اداروں کی حالت زار پر توجہ مرکوز کی ہے۔ یہ علاقے طویل عرصے تک انتظامی غفلت کا شکار رہے تھے، لیکن حالیہ عرصے میں ان کے حلقے میں ہونے والے کاموں سے لوگوں میں امید پیدا ہوئی ہے۔ یہ تمام دیہات ریاض بیدار کی سیاسی طاقت کا مرکز ہیں اور ان کا ہر دورہ اس عزم کی تجدید کرتا ہے کہ وہ اپنے حلقے کے ہر کونے کو ترقی کی دوڑ میں شامل کریں گے۔

اگر ہم ریاست کے وسیع تر مفاد میں دیکھیں، تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ریاض بیدار جیسے تجربہ کار سیاستدان کا کابینہ میں نہ ہونا جموں و کشمیر کی انتظامیہ کے لیے ایک نقصان ہے۔ ایک وزارت کے قلمدان کے ساتھ، وہ نہ صرف اپنے حلقے کی بہتر نمائندگی کر سکتے تھے، بلکہ ریاست کی سطح پر قانون سازی اور انتظامی اصلاحات میں بھی اپنا کلیدی کردار ادا کر سکتے تھے۔
ان کا پولیس سروس کا پس منظر انہیں جرائم کی روک تھام، سماجی امن، اور عوامی تحفظ جیسے معاملات میں ایک ماہر کا درجہ دیتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ریاست کو داخلی سیکیورٹی اور عوامی فلاح و بہبود کے چیلنجز درپیش ہیں، ریاض بیدار جیسی شخصیات کا وزارت میں شامل ہونا ریاست کے لیے سودمند ثابت ہوتا۔
جاوید ریاض بیدار کی سیاسی کہانی ابھی جاری ہے۔ 2024 کے انتخابات کے بعد سے، انہوں نے ثابت کیا ہے کہ عوامی خدمت کے لیے کسی وزارت کے لیبل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کا کام، ان کا حلقہ انتخاب (پٹن سے پلہالن تک اور نیہالپورہ سے دیگر دیہات تک)، اور کسانوں کے حقوق کے لیے ان کی آواز—یہ سب ایک ایسے رہنما کی عکاسی کرتے ہیں جو عوام کے دکھ سکھ کا ساتھی ہے۔
آنے والے وقت میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا سیاسی جماعتیں ان کی اس اہلیت اور تجربے کو ریاست کی سطح پر استعمال کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں یا نہیں۔ بہر حال، پٹن کے عوام کے لیے ریاض بیدار آج بھی وہ نمائندہ ہیں جو اسمبلی کے اندر اور باہر، دونوں جگہوں پر ان کی آواز بن کر کھڑے ہیں۔ ان کا سفر، تعلیم سے لے کر سیاست تک، ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس نے اپنی پوری زندگی اصولوں پر کاربند رہ کر عوامی خدمت کو ہی اپنا نصب العین بنایا ہے۔
To learn more about the latest developments in Local & Regional, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.