پہلی عالمی جنگ: 80 برس کے بعد ہندوستان کے ہزاروں پنجابی فوجیوں کی قربانیوں کا باضابطہ اعتراف

ALN NEWS DESK
اے ایل این نیوز ڈیسک
آخری اپڈیٹ : جمعرات 9 جولائی 2026 16:06
7 min read
  • linkedin
  • twitter
  • facebook
  • instagram
  • whatsapp

تحقیق کے بعد برٹش انڈین آرمی سے تعلق رکھنے والے نو ہزار 909 فوجیوں کے نام اب ’کامن ویلتھ وار گریوز کمیشن‘ کی جنگ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے ڈیٹا بیس یعنی ریکارڈ میں شامل کیے جا رہے ہیں۔

پہلی عالمی جنگ، جو 1914 سے 1918 تک جاری رہی، نے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان کیا اور اس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ جنگ نہ صرف ایک فوجی تنازعہ تھی بلکہ اس نے سیاسی، سماجی، اور اقتصادی پہلوؤں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس جنگ میں برطانوی فوج کے ساتھ مل کر لڑنے والے ہندوستانی فوجیوں کی قربانیوں کو طویل عرصے تک نظرانداز کیا گیا، لیکن اب تقریباً 80 سال بعد، ان کی خدمات کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف ان فوجیوں کی قربانیوں کا اعتراف ہے بلکہ یہ ان کے اہل خانہ اور نسلوں کے لیے ایک اہم لمحہ بھی ہے۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران، برٹش انڈین آرمی نے تقریباً 14 لاکھ افراد کو میدان جنگ میں بھیجا، جن میں سے ہزاروں نے جانیں قربان کیں۔ ان میں سے زیادہ تر فوجی پنجاب سے تعلق رکھتے تھے، جہاں سے تقریباً 320,000 فوجی برطانوی فوج کے ساتھ لڑنے کے لیے روانہ ہوئے۔ ان فوجیوں کی خدمات کو اکثر نظرانداز کیا گیا، حالانکہ ان کی قربانیوں نے جنگ کی سمت کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جنگ کے بعد، حکام نے ان فوجیوں کے نام اور ان کے ساتھ کیا ہوا اس بارے میں معلومات جمع کرنے کی کوشش کی، لیکن اس عمل میں کئی دہائیاں گزر گئیں اور بہت سے نام بھول گئے۔

اب، برٹش انڈین آرمی سے تعلق رکھنے والے 9909 فوجیوں کے نام کو 'کامن ویلتھ وار گریوز کمیشن' کے ڈیٹا بیس میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ان فوجیوں کی قربانیوں کو تاریخی سطح پر تسلیم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ نام برطانیہ کے رضاکاروں کی ایک طویل محنت کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں، جو کئی برسوں تک ان فوجیوں کے نام تلاش کرنے میں مصروف رہے۔ ان ناموں کو تلاش کرنے کا عمل پنجاب کے مختلف شہر اور گاؤں میں موجود پرانے رجسٹروں کی مدد سے کیا گیا۔

یہ رجسٹروں میں موجود معلومات نہ صرف ان فوجیوں کے ناموں کے بارے میں ہیں بلکہ ان کے خاندانوں کی تاریخ کے بارے میں بھی ہیں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے ان فوجیوں کے وارثوں اور خاندانوں کو ان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کا موقع ملے گا۔ برطانیہ کے شہر لیسٹر سے تعلق رکھنے والے سنی پالیہی، جنہوں نے اپنے پڑدادا کے بارے میں معلومات حاصل کیں، نے اس عمل کو اپنی زندگی کا ایک اہم لمحہ قرار دیا۔ ان کے پڑدادا کیسر سنگھ کا نام بھی اب ان رجسٹروں میں شامل کیا جا رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی خدمات کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب ان فوجیوں کی قربانیوں کا سرکاری طور پر اعتراف کیا جا رہا ہے، جو ایک اہم قدم ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ بھی ایک موقع ہے کہ ان کے خاندانوں کو ان کی تاریخ سے جڑنے کا موقع ملے گا۔ سنی پالیہی نے اس بات کا ذکر کیا کہ اب وہ خود کو پہلی عالمی جنگ میں خدمات انجام دینے والوں کی عالمی برادری کا حصہ سمجھتے ہیں، جو ان کے لیے ایک فخر کا لمحہ ہے۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران برصغیر سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کی خدمات کا اعتراف کرنے کے لیے یہ اقدام ایک تاریخی لمحہ ہے۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد، پنجاب بھی دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، جس کی وجہ سے بہت سے فوجیوں کی کہانیاں بھول گئیں۔ اب، لاہور کے عجائب گھر میں موجود پھٹے پرانے، نازک حالت میں چمڑے کی جلد والے رجسٹروں میں ان فوجیوں کی کہانیاں محفوظ ہیں۔ ان رجسٹروں کو ڈیجیٹلائز کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کا منصوبہ برطانیہ کی 'پنجاب ہیریٹیج ایسوسی ایشن' نے شروع کیا، جس میں کئی برس لگے۔ اس تحقیق کے دوران، جیسمین بسرا نے اپنے دو رشتہ داروں کے نام بھی دریافت کیے، جو پہلی عالمی جنگ کے دوران برٹش انڈین آرمی کا حصہ تھے۔ یہ دریافت ان کے لیے جذباتی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ ان کے خاندان کی تاریخ کو زندہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

کامن ویلتھ وار گریوز کمیشن نے اس تحقیق کی سراہنا کی ہے اور اسے اپنے ریکارڈ میں شامل کیا ہے۔ یہ کمیشن اب دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اپ ڈیٹ جاری کر رہا ہے۔ اس کے مورخین کا کہنا ہے کہ پہلے جن نو ہزار 909 فوجیوں کو یادگاری فہرستوں میں شامل نہیں کیا گیا تھا، ان میں زیادہ تر وہ اہلکار تھے جو میدان جنگ کے بجائے زخمی ہونے کے سبب بعد میں ہلاک ہوئے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ ہندوستان کی حکومت کے اُس وقت کے فیصلوں کے باعث ان فوجیوں کو جنگ میں ہلاک ہونے والوں کے سرکاری درجے 'وار گریوز سٹیٹس' نہیں دیا گیا۔ لیکن اب یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے اور ان کی قربانی کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان فوجیوں کی خدمات کو اب ایک نئی روشنی میں دیکھا جائے گا، جو کہ ان کی قربانیوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ اعداد و شمار بھی دلچسپی کا باعث ہیں، جن کے مطابق پہلی عالمی جنگ میں ہندوستان کی مختلف برادریوں نے نمایاں حصہ لیا۔ تقریباً 25 فیصد سکھ، 25 فیصد ہندو اور 40 فیصد مسلمان تھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس جنگ میں مختلف مذہبی اور نسلی پس منظر کے لوگوں نے مل کر حصہ لیا۔ یہ تنوع اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کے دوران ہندوستان کی مختلف قومیتوں کے درمیان ایک مشترکہ مقصد کے لیے اتحاد کی ضرورت تھی۔

کامن ویلتھ وار گریوز کمیشن کا کہنا ہے کہ ان ناموں کو شامل کرنے کا مقصد صرف اُن افراد کی قربانی کو محفوظ کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ پہلی عالمی جنگ کے بارے میں یورپی نقطۂ نظر کے غلبے کو کم کرنے اور اسے زیادہ جامع بنانے کی کوشش کا حصہ بھی ہے۔ اس کمیشن کا یہ ماننا ہے کہ یادگار اور خراجِ عقیدت کا عمل اس جنگ کی مکمل عالمی حقیقت کی عکاسی کرنا چاہیے۔

اس طرح، پہلی عالمی جنگ میں ہندوستانی فوجیوں کی قربانیوں کا باضابطہ اعتراف ایک اہم سنگ میل ہے، جو نہ صرف ان فوجیوں کی خدمات کی قدر دانی کا مظہر ہے بلکہ یہ ان کے خاندانوں کے لیے بھی ایک امید کی کرن ہے کہ ان کے پیاروں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ یہ عمل ایک نئی نسل کے لیے بھی سبق آموز ہے کہ وہ اپنے ماضی کو جانیں اور اس کی قدر کریں۔ اس اعتراف کی روشنی میں، یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں مزید ایسے اقدامات کیے جائیں گے جو کہ تاریخ کے ان پہلوؤں کو سامنے لائیں گے جو اب تک نظرانداز کیے گئے تھے۔

یہ اعتراف ان فوجیوں کے لیے ایک نئی شروعات کی مانند ہے، جو کہ نہ صرف ان کی خدمات کو تسلیم کرتا ہے بلکہ ان کے خاندانوں اور نسلوں کے لیے بھی ایک نئی امید کی کرن فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جس میں ہم ان قربانیوں کی قدر کرتے ہیں جو ان فوجیوں نے اپنے وطن کے لیے دی تھیں، اور اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ ہم ان کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔

Get More Updates

To learn more about the latest developments in World News & International Affairs, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.

Related News