• Home
  • News
  • Crime & Law
  • کے ٹو ایئرویز طیارہ حادثہ، بلیک باکس کی تلاش جاری

کے ٹو ایئرویز طیارہ حادثے سے جنم لینے والے سوال اور بلیک باکس کی تلاش

ALN NEWS DESK
اے ایل این نیوز ڈیسک
آخری اپڈیٹ : جمعہ 10 جولائی 2026 08:03
11 min read
  • linkedin
  • twitter
  • facebook
  • instagram
  • whatsapp

شارجہ سے کراچی کے سفر کے دوران کے ٹو ایئرویز کا طیارہ حادثے کا شکار ہوا۔ ملبہ ملنے کے بعد عملے اور بلیک باکس کی تلاش جاری ہے۔

شارجہ سے کراچی کے سفر کے دوران پاکستانی ساحلی حدود میں گر کر تباہ ہونے والے کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کا ملبہ ملنے کے بعد اس جہاز کے عملے اور بلیک باکس کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک افسوسناک حادثہ ہے بلکہ اس نے ہوا بازی کی صنعت میں سلامتی کے معیارات اور تحقیقات کے طریقوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

پاکستانی بحریہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی اردو کو تصدیق کی ہے کہ سمندر میں سرچ آپریشن اب بھی جاری ہے۔ یہ کوششیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں کہ طیارے کے ملبے اور بلیک باکس کو جلد از جلد تلاش کیا جا سکے۔ بلیک باکس طیارے کے پرواز کے دوران ہونے والے تمام اہم واقعات کی ریکارڈنگ کرتا ہے، جس سے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔

بحیرہ عرب میں گذشتہ روز لاپتہ ہونے والے نجی کمپنی کے کارگو طیارے کا ملبہ گذشتہ روز اورماڑہ کے ساحل سے 53 نوٹیکل میل جنوب سے ملا تھا۔ یہ مقام طیارے کی پرواز کے راستے کے قریب واقع ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ طیارہ ممکنہ طور پر اسی علاقے میں گر کر تباہ ہوا۔

تباہ ہونے والا طیارہ بوئنگ 737 ہے اور پاکستان کے شہر کراچی میں قائم ایک نجی فضائی کمپنی کے ٹو ایئرویز کی ملکیت ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ طیارے میں عملے کے پانچ ارکان سوار تھے، جن میں محمد رضوان ادریس (پائلٹ اِن کمانڈ)، فیصل محمود (فرسٹ آفیسر)، محمد توفیق خان (لوڈ ماسٹر)، عارف صدیقی (انجینیئر) اور محمد حامد (انجینیئر) شامل ہیں۔ ان افراد کی زندگیوں کی حفاظت کے لیے تلاش جاری ہے، اور ان کے اہل خانہ بھی اس وقت بے چینی سے ان کی واپسی کی امید کر رہے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق منگل کی شب نو بجکر 18 منٹ پر جہاز نے ’نیویگیشنل سسٹم میں مسئلے‘ کی اطلاع دی تھی اور کراچی میں ایئر کنٹرول سینٹر نے اس کی رہنمائی بھی کی تھی۔ اس قسم کے مسائل طیارے کی پرواز میں خطرات پیدا کر سکتے ہیں، اور یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ مسئلہ حادثے کی وجہ بنا یا نہیں۔

ایئرپورٹ اتھارٹی کا مزید کہنا ہے کہ منگل کی شب نو بج کر 21 منٹ پر ریڈار پر طیارہ تیزی سے نیچے آتا ہوا نظر آیا تھا اور اس کا رُخ اچانک تبدیل ہوتا دیکھا گیا، جس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا۔ یہ معلومات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ طیارہ ایک غیر معمولی اور خطرناک صورتحال میں تھا، جس کی وجہ سے اس کی پرواز میں خلل آیا۔

کے ٹو ایئرویز کا کہنا ہے کہ وہ اس حادثے کی تحقیقات میں پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں سے تعاون کر رہی ہے۔ اس تعاون کا مقصد واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنانا ہے، تاکہ آئندہ ایسے حادثات سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔

دوسری جانب بی بی سی اردو کو پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹگیشن کی ایک 11 رکنی ٹیم نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور کے ٹو ایئرویز کے کچھ دفاتر کو سیل کر کے وہاں سے ضروری ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔ یہ ریکارڈ طیارے کی پرواز کی تاریخ، مرمت کی تفصیلات اور دیگر اہم معلومات پر مشتمل ہے، جو تحقیقات میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

بی بی سی نیوز اردو نے طیارے میں سوار عملے کے اراکین کے اہلخانہ اور ماہرین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ شارجہ سے اڑان بھرنے سے پہلے اور بعد میں اس کے ساتھ کیا ہوا۔ اس دوران، اہلخانہ نے بتایا کہ طیارے میں کچھ تکنیکی مسائل تھے، جنہیں حل کرنے کے لیے طیارہ شارجہ میں رک گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جہاز کا بلیک باکس مل جائے تو اس کے ذریعے اس حادثے کی وجہ جاننے میں آسانی ہوگی۔ بلیک باکس میں موجود ڈیٹا طیارے کی پرواز کے دوران ہونے والی تمام اہم معلومات کو ریکارڈ کرتا ہے، جس میں پائلٹ کے گفتگو، پرواز کی رفتار، بلندی اور دیگر اہم پیرامیٹر شامل ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

’والد نے کہا 9:30 تک کراچی پہنچ جائیں گے‘

بی بی سی کو جہاز میں سوار انجینیئر محمد عارف کے خاندان کے دو افراد نے تصدیق کی ہے کہ وہ پیر کو جہاز کے کسی مرمتی کام کے لیے شارجہ روانہ ہوئے تھے۔ عارف صدیقی کے صاحبزادے رافع صدیقی نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’والد صاحب پیر کی رات کو دبئی کے لیے روانہ ہوئے تھے، جہاں سے ان کو بذریعہ سڑک شارجہ جانا تھا۔‘

انھوں نے تصدیق کی کہ ’جہاز میں کوئی مسئلہ ہوا تھا جسے حل کر کے واپس لانا تھا۔‘ یہ معلومات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جہاز کی مرمت کی ضرورت تھی، جو کہ ممکنہ طور پر حادثے کی وجہ بن سکتی ہے۔

عارف صدیقی کے داماد اسامہ افتخار کے مطابق جہاز ایک ہفتے سے زیادہ وقت سے شارجہ میں کھڑا تھا اور اس کا کوئی پرزہ خراب ہو گیا تھا، جو باہر سے آنا تھا۔ یہ بات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جہاز کی مرمت کے عمل میں تاخیر ہو سکتی ہے، جو کہ اس کی پرواز کی تیاری میں ایک اہم عنصر ہے۔

دوسری جانب طیارے میں سوار فرسٹ آفیسر فیصل محمود کے سسر غلام نبی بھرانی نے بھی بی بی سی اردو کو تصدیق کی ہے کہ شارجہ میں کے ٹو ایئرویز کے طیارے میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی تھی۔ یہ خرابی طیارے کی پرواز کی تیاری میں ایک اہم عنصر ہو سکتی ہے، اور اس کی تحقیقات میں یہ معلومات اہم ہوں گی۔

انھوں نے بتایا کہ فیصل محمود تقریباً 10 روز قبل شارجہ گئے تھے۔ ’یہ دورہ ایک دن کا تھا لیکن وہاں طیارے میں خرابی پیدا ہو گئی۔‘ غلام نبی بھرانی کے مطابق ان کے داماد نے ’گھر پر بتایا تھا کہ خرابی دور کرنے کے لیے امریکہ سے ایک پرزہ منگوایا گیا، جو تبدیل کیے جانے کے بعد وہ واپس روانہ ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پرزہ آنے کے بعد اسے طیارے میں نصب کیا گیا، پھر طیارے کا معائنہ کیا گیا اور اس کے بعد واپسی کی پرواز روانہ ہوئی۔ یہ بات اس بات کا اشارہ ہے کہ طیارے کی مرمت کا عمل مکمل ہو چکا تھا، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ مرمت واقعی محفوظ تھی یا نہیں۔

غلام نبی بھرانی نے بتایا کہ شارجہ سے طیارے نے پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً شام سات بج کر 10 منٹ پر اڑان بھری تھی۔ یہ وقت طیارے کی پرواز کی تاریخ میں ایک اہم لمحہ ہے، کیونکہ اس کے بعد ہی حادثے کی صورت میں طیارے کی حالت کا تعین کیا جا سکے گا۔

جہاز کا پرزہ شارجہ میں تبدیل کیا گیا؟

اسامہ افتخار کے مطابق ان کے سسر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز میں تین دہائیوں سے زیادہ بطور انجینیئر خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد وہ متعدد نجی ایئرلائنز کے ساتھ بھی منسلک رہے۔ اس تجربے کی بنا پر، وہ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جہاز کی مرمت کے عمل میں کیا چیزیں اہم ہیں۔

اسامہ کے مطابق عارف صدیقی کےٹو ایئرویز کے ملازم نہیں بلکہ نورٹیک نامی کمپنی میں بطور انجینیئر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ یہ کمپنی ایئرلائنز کو مینٹیننس سروس فراہم کرتی ہے۔ اس بات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ طیارے کی مرمت کے عمل میں مختلف کمپنیوں کی شمولیت ہوتی ہے، جو کہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔

نورٹیک نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ عارف صدیقی اسی کے ملازم تھے۔ تاہم جب کمپنی سے پوچھا گیا کہ وہ طیارے میں کسی قسم کی خرابی دور کرنے گئے تھے تو اس نے کہا کہ: ’ہمارے پاس فی الحال کوئی معلومات موجود نہیں ہے۔‘ یہ خاموشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تحقیقات کے دوران مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی نے کے ٹو ایئرویز کے ایک ایئرکرافٹ سیفٹی مینیجر سے بھی اس حوالے سے بات کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے کوئی واضح جواب موصول نہیں ہوا۔ یہ بات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کمپنی کی طرف سے عوامی سطح پر معلومات فراہم کرنے میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔

تاہم نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کے ٹو ایئرویز کے ایک عہدیدار نے بی بی سی نیوز اردو کو تصدیق کی کہ جہاز شارجہ میں کسی پرزے کی خرابی کے سبب کئی دنوں سے کھڑا ہوا تھا۔ تاہم عہدیدار کے مطابق جہاز کا وہ پرزہ تبدیل کر دیا گیا تھا۔ یہ معلومات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ طیارے کی مرمت کا عمل مکمل ہوا تھا، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ مرمت واقعی محفوظ تھی یا نہیں۔

’جہاز میں کوئی خرابی نہیں تھی، اگر ایسا ہوتا تو شارجہ ایوی ایشن کبھی بھی جہاز کو اڑان بھرنے کی کلیئرنس نہیں دیتی۔‘ یہ بیان اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایوی ایشن اتھارٹی نے طیارے کی حالت کا معائنہ کیا تھا اور اسے محفوظ قرار دیا تھا۔

عہدیدار کے مطابق ’شارجہ میں یہ اتنے دن اسی لیے کھڑا رہا کیونکہ ہم اس میں مرمتی کام کروا رہے تھے۔ جہاز کا جو پرزہ خراب تھا وہ امریکہ سے آیا تھا، لگا گیا تھا، اس کو چیک کیا گیا تھا۔‘ یہ معلومات اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ طیارے کی مرمت کا عمل مکمل اور معیاری تھا، لیکن اس کے باوجود حادثہ پیش آیا۔

حکام کی جانب سے اس حادثے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ اگر تلاش کے دوران طیارے کا بلیک باکس مل جاتا ہے، تو حادثے کی وجہ جاننا آسان ہو جائے گی۔ بلیک باکس کی موجودگی میں، تحقیقات کے دوران طیارے کی پرواز کے تمام اہم واقعات کو جانچنے میں مدد ملے گی۔

’اگر کریش کی جگہ کا تعین ہو جائے تو بلیک باکس ڈھونڈنا آسان ہوگا‘

ماضی میں ہوابازی کے شعبے میں برسوں تک خدمات سرانجام دینے والے ایوی ایشن ایکسپرٹ افر ملک کا کہنا ہے کہ طیارے گرنے کے مقام کی درست شناخت ہو جائے تو جہاز کا بلیک باکس مل سکتا ہے، جس سے ’بہت سی چیزیں واضح ہو جائیں گی۔‘ یہ معلومات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ حادثے کی جگہ کی درست شناخت کی اہمیت ہے۔

’طیارے کے جو حصے ملے ہیں وہ پانی کے اوپر ہی تیر رہے تھے، لیکن بلیک باکس سمندر میں ہزار ڈیڑھ ہزار فُٹ نیچے ہو سکتا ہے کیونکہ وہ بھاری بھرکم ہوتا ہے۔‘ یہ بات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بلیک باکس کی تلاش میں مشکلات ہو سکتی ہیں، اگر اس کی جگہ کا تعین درست نہ کیا جائے۔

افسر ملک کے مطابق طیارہ حادثے کے بعد ریسکیو اہلکاریوں کو بھی ملبے تک پہنچنے میں کم از کم 12 گھنٹے لگے ہوں گے۔ یہ تاخیر ممکنہ طور پر بلیک باکس کی تلاش میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

’اگر جگہ کا درست تعین ہو جاتا ہے تو پھر پاکستانی بحریہ کے غوطہ خور یا جو آبدوزیں ہوتی ہیں وہ اسے تلاش کر سکتی ہیں۔‘ یہ بات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر تلاش کا عمل منظم اور مؤثر ہو تو بلیک باکس کی تلاش میں کامیابی ممکن ہے۔

پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق کےٹو ایئرویز کے جہاز نے نیویگیشن سسٹم میں مسئلے کی اطلاع دی تھی۔ تاہم افسر ملک سمجھتے ہیں کہ ’نیویگیشن کا مسئلہ کریش کی وجہ نہیں ہو سکتا۔‘ یہ بات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

پروازوں کی نگرانی کرنے والی سروس فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق اس طیارے کے آخری لمحات غیر معمولی تھے۔ یہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تقریباً 5,000 فٹ نیچے آیا، پھر صرف 30 سیکنڈ میں تقریباً 6,000 فٹ اوپر گیا، جس کے بعد 36,550 فٹ کی بلندی سےغیر معمولی انداز میں نیچے آیا۔ یہ غیر معمولی حرکات طیارے میں کسی سنگین تکنیکی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہیں، جس کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

اس حادثے کے نتیجے میں نہ صرف متاثرہ عملے کے اہلخانہ متاثر ہوئے ہیں بلکہ اس نے ہوا بازی کی صنعت میں بھی ایک بار پھر سلامتی کے معیارات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ایوی ایشن حکام اور ایئرلائنز کو مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

حکام کی جانب سے تحقیقات کا عمل جاری ہے، اور اس کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ یہ نتائج نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے اہم ہوں گے بلکہ ہوا بازی کی صنعت کے لیے بھی ایک سبق آموز تجربہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

Get More Updates

To learn more about the latest developments in Crime & Law, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.

Related News