• Home
  • News
  • Crime & Law
  • سپریم کورٹ نے 24 گھنٹے عدالتیں چلانے کی مانگ پر نوٹس جاری کیا

سپریم کورٹ نے 24 گھنٹے عدالتیں چلانے کی مانگ پر تمام ہائی کورٹس کو نوٹس جاری کیا

ALN NEWS DESK
اے ایل این نیوز ڈیسک
آخری اپڈیٹ : منگل 14 جولائی 2026 21:02
7 min read
  • linkedin
  • twitter
  • facebook
  • instagram
  • whatsapp

سپریم کورٹ نے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہائی کورٹس کو 24 گھنٹے عدالتیں چلانے کی ہدایت کی ہے۔

تاثیر 14 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 14 جولائی: سپریم کورٹ نے لوگوں کے حقوق اور ذاتی آزادی سے جڑے معاملات پر ملک بھر کی عدالتوں میں چوبیسوں گھنٹے غور کرنے کی مانگ والی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے یہ نوٹس جاری کیا۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پولیس کے اختیارات کے غلط استعمال کے بارے میں عوامی تشویش بڑھ رہی ہے۔

یہ عرضی ایڈووکیٹ مہراوش رین نے دائر کی ہے، جنہوں نے عدالت میں یہ نقطہ اٹھایا کہ اکثر شہریوں کو رات کے وقت گرفتار کر لیا جاتا ہے یا صبح سویرے (مکانات و دکانیں وغیرہ) منہدم کر دیے جاتے ہیں۔ یہ کارروائیاں اکثر ہفتے کے آخری دنوں (ویک اینڈ) میں کی جاتی ہیں تاکہ اس دوران آئینی عدالتیں بند رہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں شہریوں کو فوری قانونی مدد حاصل نہیں ہو پاتی، جو ان کی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا باعث بنتی ہے۔

عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ جب عدالتیں بند ہوتی ہیں اور شہریوں کی ذاتی آزادی چھینی جا رہی ہوتی ہے تو ایک شہری بے بس ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی قانونی حقوق کا دفاع کرنے کے لیے کسی بھی فورم تک رسائی حاصل نہیں کر پاتا۔ یہ صورتحال خاص طور پر ان لوگوں کے لیے خطرناک ہوتی ہے جو غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے ہیں یا جن کے ساتھ طاقت کے استعمال کے ذریعے زیادتی کی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ رین نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتوں میں کام کے گھنٹے بڑھانا اور محدود شکل میں تعطیلاتی بنچ (وکیشن بنچ) تشکیل دینا ضروری ہے تاکہ شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے معاملات میں وقت پر انصاف مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالتیں چوبیس گھنٹے کام کریں گی تو شہریوں کو ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے فوری طور پر قانونی مدد مل سکے گی۔

یہ عرضی دراصل ایک وسیع تر مسئلے کا حصہ ہے، جس میں انسانی حقوق کی حفاظت اور انصاف کی فراہمی کے نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بھارت میں، جہاں قانون اور انصاف کا نظام پیچیدہ اور اکثر سست ہے، یہ ضروری ہے کہ شہریوں کو فوری اور موثر قانونی مدد فراہم کی جائے، خاص طور پر جب وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار ہوں۔

عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تمام ہائی کورٹس کو اس درخواست پر غور کرنا ہوگا اور اپنی رائے پیش کرنی ہوگی۔ یہ ایک اہم قدم ہے جو اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ عدالتیں انسانی حقوق کے معاملے میں سنجیدہ ہیں اور وہ شہریوں کی آزادی اور حقوق کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اور وکلاء یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت کو پولیس کے اختیارات کو کنٹرول کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عدالتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو فوری انصاف فراہم کیا جا سکے۔

عدالت کے اس فیصلے کے اثرات وسیع پیمانے پر ہوں گے، کیونکہ اگر عدالتیں چوبیس گھنٹے کام کرنے لگیں تو یہ ایک نیا دور شروع کر سکتی ہیں جہاں شہریوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کیے جا سکیں گے۔ اس سے نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام میں مدد ملے گی بلکہ یہ بھی یقینی بنائے گا کہ شہریوں کو ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی مدد فراہم کی جائے۔

یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت میں عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، خاص طور پر جب انسانی حقوق کی بات آتی ہے۔ وکلاء، انسانی حقوق کے کارکنان اور عام شہری یہ امید کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا یہ اقدام ایک مثبت تبدیلی کی طرف لے جائے گا اور ملک میں قانون اور انصاف کے نظام کو مزید مضبوط کرے گا۔

اس کے علاوہ، یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت اور دیگر متعلقہ ادارے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور عدلیہ کی مدد کریں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر طور پر انجام دے سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ عدالتوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔

اس معاملے کی سماعت کے دوران، عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے معاملات میں فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ یہ ایک اہم پہلو ہے کیونکہ جب تک شہریوں کو ان کے حقوق کا تحفظ نہیں ملتا، تب تک انصاف کا نظام موثر نہیں ہو سکتا۔

اس طرح کے اقدامات سے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ شہریوں کو ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری قانونی مدد حاصل ہو، اور یہ کہ انصاف کی فراہمی کا نظام مزید موثر اور قابل رسائی ہو۔ یہ ایک مثبت تبدیلی کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتا ہے جو کہ انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے ایک نئی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

عدالت کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کا مقصد یہ ہے کہ تمام ہائی کورٹس اس معاملے پر غور کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ شہریوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ اگر عدالتیں چوبیس گھنٹے کام کرنے لگیں تو یہ ایک نیا باب کھول سکتا ہے جہاں شہریوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کیے جا سکیں گے۔

یہ معاملہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ ملک کے عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے بہترین ممکنہ مدد فراہم کی جا سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور دیگر ادارے مل کر کام کریں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کی جا سکے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

عدالت کی جانب سے نوٹس جاری کرنے کا یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف شہریوں کے حقوق کی حفاظت میں مدد ملے گی بلکہ یہ بھی یقینی بنائے گا کہ انصاف کا نظام شہریوں کے لیے قابل رسائی ہو۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اگرچہ یہ ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ عملی چیلنجز بھی موجود ہیں۔ عدالتوں کی 24 گھنٹے فعالیت کے لیے بنیادی ڈھانچے، وسائل اور عملے کی ضرورت ہوگی۔ مزید برآں، یہ دیکھنا بھی ضروری ہوگا کہ آیا یہ اقدام واقعی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔

اگرچہ یہ نوٹس ایک مثبت تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے، لیکن اس کا عملی نفاذ ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے مل کر کام کریں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ شہریوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

آخری طور پر، یہ عرضی اور سپریم کورٹ کا جواب اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت میں انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے ایک جامع اور موثر نظام کی ضرورت ہے۔ اگر عدالتیں چوبیس گھنٹے کام کرنے لگیں تو اس سے شہریوں کو ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری قانونی مدد مل سکے گی، اور یہ یقینی بنائے گا کہ انصاف کا نظام شہریوں کے لیے قابل رسائی ہو۔

یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسانی حقوق اور انصاف کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے، اور یہ کہ سپریم کورٹ کے اس اقدام سے ایک نئی راہ ہموار ہو سکتی ہے جو کہ شہریوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہو۔

Get More Updates

To learn more about the latest developments in Crime & Law, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.

Related News