رکشا بندھن پر ملک بھر میں 30 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے کاروبار کی توقع

ALN NEWS DESK
اے ایل این نیوز ڈیسک
آخری اپڈیٹ : منگل 25 اگست 2026 20:45
6 min read
  • linkedin
  • twitter
  • facebook
  • instagram
  • whatsapp

ملک بھر میں رکشا بندھن کے تہوار پر 30 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے کاروبار کی توقع کی جا رہی ہے، جس میں راکھیوں کا کاروبار تقریباً 25 ہزار کروڑ روپے تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔

تاثیر 25 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 25 اگست: ملک بھر میں رکشا بندھن کے تہوار کے موقع پر اس بار 30 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے کاروبار کی توقع ہے۔ اس میں صرف راکھیوں کا کاروبار تقریباً 25 ہزار کروڑ روپے تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ رکشا بندھن، جو کہ بھائی اور بہن کے درمیان محبت اور رشتے کی علامت ہے، ہر سال ہندو کلینڈر کے مطابق شری کرشنا جینم کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار خاص طور پر شمالی بھارت میں بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، جہاں بہنیں اپنے بھائیوں کی کلائی پر راکھی باندھتی ہیں اور ان کی صحت، خوشحالی اور کامیابی کی دعا کرتی ہیں۔

رکنِ پارلیمنٹ اور کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (کیٹ) کے قومی جنرل سکریٹری پروین کھنڈیلوال نے منگل کو پریس کانفرنس میں کہا کہ رکشا بندھن کے تہوار میں اب صرف چار دن باقی رہ گئے ہیں اور دہلی سمیت ملک بھر کی مارکیٹوں میں خریداری عروج پر پہنچ گئی ہے۔ دہلی کے چاندنی چوک، صدر بازار، کرول باغ، لاجپت نگر، کملا نگر، راجوری گارڈن، گاندھی نگر، کھاری باولی، لکشمی نگر اور مختلف مقامی بازاروں میں صارفین کی زبردست بھیڑ دیکھی جا رہی ہے۔ شام کے وقت بازاروں میں خاصی رونق ہے اور تاجروں کے مطابق اس سال رکشا بندھن کا جوش گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ نظر آ رہا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ رکشا بندھن کے تہوار کی اہمیت صرف مذہبی نہیں بلکہ اقتصادی بھی ہے۔ ہر سال اس موقع پر مختلف قسم کی مصنوعات کی خریداری کی جاتی ہے، جن میں راکھی، مٹھائیاں، کپڑے، جوتے، اور دیگر تحائف شامل ہیں۔ ان تمام اشیاء کی خریداری سے ملک کی معیشت میں ایک مثبت اثر مرتب ہوتا ہے۔ اس سال بھی، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رکشا بندھن کے باعث مارکیٹ میں جوش و خروش اور خریداری کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے چھوٹے اور بڑے دونوں کاروباروں کو فائدہ ہوگا۔

تاجروں کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس سال خاص طور پر آن لائن خریداری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی سہولت کے مطابق مختلف ای کامرس ویب سائٹس سے راکھی اور دیگر تحائف خرید رہے ہیں۔ یہ آن لائن خریداری کا رجحان خاص طور پر نوجوان نسل میں بڑھتا جا رہا ہے، جو کہ ٹیکنالوجی سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں آن لائن خریداری کی سہولیات میسر ہیں۔ اس کے علاوہ، بہت سی کمپنیوں نے اپنے صارفین کو خصوصی ڈسکاؤنٹس اور پیشکشیں بھی فراہم کی ہیں، جس کی وجہ سے آن لائن خریداری مزید مقبول ہو رہی ہے۔

اس کے علاوہ، رکشا بندھن کے تہوار کے دوران مختلف ثقافتی پروگرامز بھی منعقد کیے جاتے ہیں، جو کہ لوگوں کو ایک ساتھ لانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ پروگرامز نہ صرف تفریحی ہوتے ہیں بلکہ مقامی ثقافت کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ اس طرح کے پروگراموں میں میوزک، ڈانس، اور دیگر فنون لطیفہ شامل ہوتے ہیں، جو لوگوں کے لیے ایک خوشگوار تجربہ فراہم کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بار رکشا بندھن کی خریداری میں اضافے کی ایک بڑی وجہ معاشی بحالی ہے، جو کہ کووڈ-19 کی وبا کے بعد آہستہ آہستہ ہو رہی ہے۔ لوگ اب زیادہ اعتماد کے ساتھ خریداری کر رہے ہیں، اور یہ بات اس تہوار کے دوران مارکیٹ کی رونق کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

اس کے ساتھ ہی، رکشا بندھن کی خریداری کا اثر دیگر شعبوں پر بھی پڑتا ہے، جیسے کہ ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، اور ہول سیل مارکیٹ۔ جب لوگ تحائف اور راکھی خریدتے ہیں، تو اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی سرگرمی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ مختلف اشیاء کی ترسیل کے لیے نقل و حمل کی ضرورت ہوتی ہے۔

رکشا بندھن کے تہوار کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ یہ رشتوں کو مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس دن بہنیں اپنے بھائیوں کے لیے خاص تحائف خریدتی ہیں، اور بھائی اپنی بہنوں کے لیے تحفے دیتے ہیں، جس سے ان کے درمیان محبت اور احترام کا رشتہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔ اس تہوار کے دوران خاندان کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، جو کہ خاندانی تعلقات کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

آخر میں، رکشا بندھن کے تہوار کی اقتصادی اہمیت اور اس کی ثقافتی حیثیت دونوں ہی اسے ایک منفرد اور خاص موقع بناتے ہیں۔ اس سال کی 30 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی کاروباری توقع اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تہوار نہ صرف مذہبی بلکہ اقتصادی طور پر بھی ملک کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ موقع نہ صرف خریداری کے لیے بلکہ رشتوں کی مضبوطی اور ثقافتی روایات کے فروغ کے لیے بھی اہم ہے۔

رکشا بندھن کا تہوار ہر سال مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے اور اس کی روایات مختلف علاقوں میں مختلف ہوسکتی ہیں۔ کچھ مقامات پر، یہ تہوار صرف بہن اور بھائی کے رشتے تک محدود نہیں رہتا بلکہ دیگر قریبی رشتوں میں بھی محبت اور احترام کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس طرح، یہ تہوار سماجی ہم آہنگی اور اتحاد کی علامت بھی بن جاتا ہے۔

اقتصادی لحاظ سے، رکشا بندھن کے دوران ہونے والی خریداری کا اثر نہ صرف تجارتی اداروں پر پڑتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مقامی ہنر مندوں، کاریگروں، اور چھوٹے کاروباریوں کے لیے بھی ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ ان کے لیے اپنی مصنوعات کی نمائش اور فروخت کا موقع ہوتا ہے، جس سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔

بہت سی تنظیمیں اور غیر سرکاری ادارے بھی اس تہوار کے دوران مختلف خیراتی سرگرمیاں منعقد کرتے ہیں، جہاں وہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس طرح، رکشا بندھن کا تہوار نہ صرف ذاتی رشتوں کو مضبوط کرتا ہے بلکہ سماجی ذمہ داری کا بھی احساس دلاتا ہے۔

سماجی طور پر، یہ تہوار لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے، جہاں لوگ اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ مل کر خوشیاں مناتے ہیں۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جب لوگ اپنے مصروف شیڈول سے وقت نکال کر ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں بلکہ یہ ان کی ذہنی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

اس طرح، رکشا بندھن کا تہوار ایک جامع تقریب ہے جو کہ مذہبی، ثقافتی، اور اقتصادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی 30 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی کاروباری توقع اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تہوار ہر سال بڑھتا جا رہا ہے اور اس کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ نہ صرف خاندانی رشتوں کو مضبوط کرتا ہے بلکہ ملک کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

Get More Updates

To learn more about the latest developments in Economy, stay updated with our exclusive reports and analyses on AILensNews.

Related News