سینگارینی زیر زمین کوئلے کی گیس کے تجرباتی منصوبے کی تیاری کر رہا ہے

ALN NEWS DESK
اے ایل این نیوز ڈیسک
آخری اپڈیٹ : ہفتہ 11 جولائی 2026 16:20
7 min read
  • linkedin
  • twitter
  • facebook
  • instagram
  • whatsapp

سینگارینی کولیرز کمپنی لمیٹڈ (SCCL) نے کوئلے کی گیس کے شعبے میں داخل ہونے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس کے تحت پہلے زیر زمین کوئلے کی گیس کے تجرباتی منصوبے کی تیاری جاری ہے۔

حیدرآباد: سینگارینی کولیرز کمپنی لمیٹڈ (SCCL) نے حالیہ برسوں میں کوئلے کی گیس کے شعبے میں داخل ہونے کی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف کمپنی کی توانائی کی متنوع کمپنی میں تبدیل ہونے کی حکمت عملی کا حصہ ہے بلکہ یہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔ SCCL کی زیر زمین کوئلے کی گیس کے تجرباتی منصوبے کی تیاری جاری ہے، جس کا مقصد کوئلے کی گیس کی پیداوار کو فروغ دینا اور اس کے ذریعے توانائی کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔

کوئلے کی گیس، جو کہ زیر زمین کوئلے کی گیس میں تبدیلی کے عمل کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے، ایک ایسی توانائی کا ذریعہ ہے جو کہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ اس کی پیداوار کا عمل بھی نسبتاً کم مہنگا ہوتا ہے۔ SCCL کی کوشش ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے توانائی کی پیداوار میں خودکفیل ہو سکے اور ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو پورا کر سکے۔

SCCL کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر بدھ پرکاش جوٹی نے حال ہی میں حیدرآباد میں سنگارینی بھون میں ایک اجلاس کے دوران وزارت پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے ڈائریکٹوریٹ جنرل کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سری کانت ناگولاپلی کے ساتھ کمپنی کی کوئلے کی گیس کے اقدامات کا جائزہ لیا۔ اس اجلاس میں، انہوں نے کمپنی کی مستقبل کی حکمت عملی پر بھی گفتگو کی، جس میں کوئلے کی گیس کی پیداوار کے منصوبوں کی ترقی شامل ہے۔

ڈاکٹر جوٹی نے اس بات پر زور دیا کہ انجینئرز انڈیا لمیٹڈ (EIL) نے سنگارینی تھرمل پاور پلانٹ (STPP) میں 400 ٹن فی دن امونیم نائٹریٹ پگھلنے کے پلانٹ کے قیام کے لیے ایک feasibility study مکمل کر لی ہے۔ یہ مطالعہ اس بات کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہوگا کہ آیا یہ منصوبہ مالی طور پر قابل عمل ہے یا نہیں۔ تاہم، موجودہ ماڈل کے تحت محدود سرمایہ کاری کی واپسی کی وجہ سے، SCCL منصوبے کی صلاحیت بڑھانے، مرکزی حکومت کی Viability Gap Funding (VGF) حاصل کرنے، اور مقامی ٹیکنالوجیز اپنانے کے اختیارات تلاش کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ، SCCL کی توسیع کی منصوبہ بندی کے تحت، کمپنی کے اہلکاروں کی ایک ٹیم اس مہینے کے آخر میں اہم کوئلے کی گیس کے منصوبوں، بشمول ٹلچر، MCL-BHEL اور JSPL کا دورہ کرے گی تاکہ ان کے عملی ماڈلز کا مطالعہ کیا جا سکے۔ یہ دورے اس بات کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے کہ SCCL اپنے منصوبوں کو بہتر طور پر سمجھ سکے اور ان میں بہتری لا سکے۔

کمپنی بیہمارام، چننور ساؤتھ اور نائنی جیسے علاقوں میں سطحی کوئلے کی گیس کے منصوبوں کی feasibility کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، SCCL نے بیللمپلی اور رام گنڈم کے علاقوں میں پانچ گہرے کوئلے کے بلاکس کو ممکنہ مقامات کے طور پر منتخب کیا ہے۔ بیللمپلی ڈپ سائیڈ بلاک میں پہلے تجرباتی منصوبے کے آغاز کے لیے تیاری جاری ہے، جس میں ڈرلنگ کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ یہ تجرباتی منصوبہ مرکزی کان منصوبہ بندی اور ڈیزائن انسٹی ٹیوٹ (CMPDI) اور CSIR-Central Institute of Mining and Fuel Research (CSIR-CIMFR) کے سائنسدانوں کی تکنیکی مدد سے نافذ کیا جائے گا۔

اجلاس میں SCCL کے ڈائریکٹرز L.V. سوریا نراینا (آپریشنز)، K. وینکٹیشورلو (منصوبے اور منصوبہ بندی)، گوتم پوترو (عملہ اور مالیات)، ایگزیکٹو ڈائریکٹر B. وینکنا، اور دیگر سینئر اہلکار موجود تھے۔ ان تمام افراد نے اس بات پر زور دیا کہ کمپنی کی اس نئی حکمت عملی سے نہ صرف توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ یہ ملک کی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

یہ منصوبہ ملک کی توانائی کی خودکفالت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ کوئلے کی گیس کی پیداوار میں اضافہ سے نہ صرف بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ یہ ماحول کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا، کیونکہ یہ توانائی کا ایک صاف ستھرا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ، اس منصوبے سے مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا، کیونکہ یہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔

اس کے ساتھ ہی، SCCL کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ اس منصوبے کے نفاذ کے دوران ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کی پاسداری کرے۔ کوئلے کی گیس کی پیداوار کے عمل میں کئی ماحولیاتی چیلنجز ہو سکتے ہیں، جن میں زمین کی آلودگی، پانی کی کمی، اور ہوا کی آلودگی شامل ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے، SCCL کو جدید ٹیکنالوجیز اور بہترین طریقوں کو اپنانا ہوگا۔

آنے والے دنوں میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ SCCL اپنے زیر زمین کوئلے کی گیس کے تجرباتی منصوبے کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے اور یہ منصوبہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف SCCL کے لیے بلکہ ملک کی توانائی کی صنعت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔

مزید برآں، اگر یہ تجرباتی منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو اس کی توسیع کے امکانات بھی موجود ہیں، جس سے ملک میں کوئلے کی گیس کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف توانائی کی پیداوار میں اضافہ کرے گا بلکہ ملک کی توانائی کی خودکفالت کی راہ میں بھی ایک اہم قدم ہوگا۔

آخری تجزیے میں، SCCL کا یہ اقدام ایک مثبت قدم ہے جو کہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت کی ترقی میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ ضروری ہے کہ SCCL اس منصوبے کے نفاذ میں تمام ماحولیاتی اصولوں کی پاسداری کرے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔

کوئلے کی گیس کی پیداوار کے فوائد اور نقصانات کے حوالے سے، یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ توانائی کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو کہ روایتی کوئلے کے مقابلے میں زیادہ موثر اور کم آلودگی پیدا کرتا ہے۔ یہ گیس، جو کہ میتھین پر مشتمل ہوتی ہے، کوئلے کی کھدائی کے دوران پیدا ہونے والے گیسوں کی ایک شکل ہے، جو کہ اگر صحیح طریقے سے استعمال کی جائے تو یہ توانائی کی پیداوار میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ، کوئلے کی گیس کی پیداوار کے عمل میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ یہ ماحولیاتی اثرات کو بھی کم کرے گا۔ SCCL کی کوشش ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجیز کو اپناتے ہوئے اس شعبے میں بہترین نتائج حاصل کرے۔

یہ بھی اہم ہے کہ SCCL کی یہ کوششیں نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ عالمی سطح پر توانائی کی طلب میں اضافے کے ساتھ، کوئلے کی گیس کی پیداوار کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں، SCCL کے منصوبے کو عالمی توانائی کی مارکیٹ میں ایک نئے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آنے والے سالوں میں، اگر SCCL اپنے تجرباتی منصوبے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف مقامی معیشت کو مستحکم کرے گا بلکہ ملک کی توانائی کی خودکفالت میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اس طرح، یہ منصوبہ نہ صرف توانائی کی پیداوار میں اضافہ کرے گا بلکہ ملک کی معیشت کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

آخر میں، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ SCCL کا یہ اقدام ایک دور اندیشی کا مظہر ہے جو کہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف SCCL بلکہ پورے ملک کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

Get More Updates

To learn more about the latest developments in Energy & Clean Tech, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.

Related News