• Home
  • Health
  • Health News
  • کراچی کے ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی پھیلاؤ کے بعد طبی فضلے کی ناقص نگرانی

کراچی کے ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی پھیلاؤ کے بعد طبی فضلے کی ناقص نگرانی

ALN NEWS DESK
اے ایل این نیوز ڈیسک
آخری اپڈیٹ : منگل 14 جولائی 2026 18:20
7 min read
  • linkedin
  • twitter
  • facebook
  • instagram
  • whatsapp

کراچی کے ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کے کیسز کے بعد طبی فضلے کی ناقص نگرانی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے اپنی ذمہ داری سے لاتعلقی اختیار کر لی ہے۔

کراچی کے ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کے 81 کیسز کے پھیلاؤ کے بعد طبی فضلے کی ناقص نگرانی کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف صحت کے نظام کی خامیوں کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے اس معاملے میں اپنی ذمہ داری سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے سارا ملبہ سیکریٹری ہیلتھ پر ڈال دیا ہے۔ اس دوران استعمال شدہ طبی فضلے، جیسے کہ سرنجیں اور ڈرپ سیٹس، کھلے عام پڑے ہوئے ملے ہیں، جو کہ خطرناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق، ولیکا اسپتال میں انسینیٹر روم کے باہر استعمال شدہ سرنجیں، ڈرپ سیٹس، خون آلودہ روئی اور دیگر متعدی طبی فضلے کھلے عام پڑے ہوئے تھے، جس نے انفیکشن کنٹرول اور طبی فضلے کی محفوظ تلفی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف اسپتال کے اندر موجود مریضوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ ان کے تیمارداروں اور اسپتال کے عملے کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

طبی فضلے کی نگرانی کے اصول

عالمی ادارہ صحت اور پاکستان کے طبی فضلے سے متعلق قواعد کے تحت، استعمال شدہ سرنجیں، ڈرپ سیٹس، اور دیگر متعدی فضلے کو مخصوص رنگوں والے بائیو ہیزرڈ بیگز میں جمع کرنا ضروری ہے۔ ان فضلے کو عارضی طور پر محفوظ جگہ پر رکھنے کے بعد، مقررہ وقت کے اندر انسینیٹر یا دیگر منظور شدہ طریقہ کار کے ذریعے تلف کرنا لازمی ہوتا ہے۔ یہ اصول اس بات کو یقینی بنانے کے لیے وضع کیے گئے ہیں کہ طبی فضلہ انسانی صحت اور ماحول کے لیے خطرہ نہ بنے۔

طبی فضلے کو کھلے عام چھوڑنا یا مقررہ طریقہ کار کے مطابق تلف نہ کرنا انفیکشن کنٹرول کے اصولوں کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ایچ آئی وی جیسی مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھتا ہے بلکہ دیگر متعدی بیماریوں جیسے ہیپاٹائٹس اور دیگر وائرل انفیکشنز کے پھیلنے کا بھی خدشہ رہتا ہے۔

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کا مؤقف

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ طبی فضلے کی نگرانی یا اس کا چیک اینڈ بیلنس کمیشن کی براہ راست ذمہ داری نہیں ہے۔ کمیشن صرف اس وقت کسی اسپتال کا معائنہ کرتا ہے جب باضابطہ شکایت موصول ہو یا سیکریٹری صحت سندھ کی جانب سے ہدایات جاری کی جائیں۔ اس مؤقف پر طبی ماہرین اور ڈاکٹروں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین ڈاکٹر محبوب نورانی نے کہا کہ ایچ آئی وی کی تصدیق کے بعد اگر ریگولیٹری ادارہ اپنی ذمہ داری سے لاتعلقی اختیار کرتا ہے تو اس کے کردار پر سوالات اٹھتے ہیں۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب طبی فضلے کی نگرانی کی ذمہ داری کسی سرکاری ادارے پر نہیں ہوتی تو اس کے نتیجے میں اسپتالوں میں حفاظتی اقدامات کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ بھی ممکن ہے کہ مریضوں کے علاج میں غیرمعیاری طریقے اپنائے جائیں، جس کی وجہ سے صحت کی خدمات کی معیاری سطح متاثر ہو سکتی ہے۔

طبی فضلے کے خطرات

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر طبی فضلے کو بروقت اور محفوظ انداز میں تلف نہ کیا جائے تو یہ نہ صرف اسپتال کے عملے بلکہ مریضوں اور ان کے تیمارداروں کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ استعمال شدہ سرنجیں اور خون سے آلودہ سامان اگر مقررہ طریقہ کار کے مطابق تلف نہ کیا جائے تو یہ مختلف متعدی بیماریوں کی منتقلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور سی، اور دیگر وائرل انفیکشنز کی منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، طبی فضلے کی ناقص نگرانی کے نتیجے میں عوامی صحت کے لیے بھی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ فضلہ محفوظ طریقے سے تلف نہ کیا جائے، تو یہ ماحول میں آلودگی کا باعث بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں زمین، پانی اور ہوا کی آلودگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ان علاقوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے جہاں لوگ پانی کے ذرائع کا استعمال کرتے ہیں۔

تحقیقات اور انکوائری کمیٹی

ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کی تصدیق کے بعد صوبائی حکومت نے تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے۔ متعدد ڈاکٹروں اور دیگر ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی جا چکی ہے۔ انکوائری کمیٹی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، خاص طور پر معطل کیے گئے آڈٹ افسران کے خلاف کارروائی پر۔ معطل آڈٹ افسر توقیر احمد نے کہا کہ اسپتال میں مریضوں کی طبی نگرانی اور انفیکشن کنٹرول کی ذمہ داری میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ایڈمنسٹریٹر پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ آڈٹ افسر پر۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایڈمنسٹریٹر کی ذمہ داری اسپتال کے انتظامی اور انفیکشن کنٹرول نظام کی نگرانی ہے تو ان کے کردار کا بھی غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ انکوائری کے بجائے ایک آزاد اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ یہ مطالبہ اس لیے بھی کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے اور اسپتالوں میں طبی فضلے کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔

اس صورتحال کے پیش نظر، ولیکا اسپتال میں طبی فضلے کی نگرانی اور انفیکشن کنٹرول کے بنیادی اصولوں پر مؤثر عمل درآمد کے حوالے سے کئی اہم سوالات جواب طلب ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اسپتالوں میں حفاظتی اقدامات کو ترجیح دی جائے اور طبی فضلے کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صحت کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، خاص طور پر ان اداروں میں جہاں عوامی صحت کا تحفظ سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر ان مسائل پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ نہ صرف موجودہ مریضوں کے لیے بلکہ مستقبل میں آنے والے مریضوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، صحت کے ادارے اور دیگر متعلقہ ادارے مل کر اس مسئلے کا حل نکالیں تاکہ عوام کی صحت اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس کے علاوہ، یہ واقعہ صحت کے نظام کی اصلاحات کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ پاکستان میں صحت کی سہولیات کی حالت، خاص طور پر سرکاری اسپتالوں میں، اکثر تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔ اس واقعے نے عوامی سطح پر اس بات کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے کہ کیسے صحت کی سہولیات میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کی ضرورت ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ طبی فضلے کی نگرانی کے لیے سخت قوانین وضع کرے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ، عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ طبی فضلے کی صحیح طریقے سے تلفی کے بارے میں جان سکیں۔

مجموعی طور پر، یہ واقعہ ایک سنگین یاد دہانی ہے کہ صحت کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے، اور یہ کہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ مسائل حل نہ کیے گئے تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں، جو کہ نہ صرف موجودہ مریضوں کے لیے بلکہ پوری کمیونٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

Get More Updates

To learn more about the latest developments in Health News, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.

Related News