تازہ ترین سائنسی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات آپ کی گردن کی ساخت میں تبدیلی لا سکتے ہیں، آپ کی بینائی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور آپ کے پٹھوں کی طاقت کم کر سکتے ہیں۔
نئی دہلی، بھارت ۱۰ جولائی، ۲۰۲۶ ALN: آپ کے آلات آپ کے جسم کو ان طریقوں سے بدل رہے ہیں جن کا شاید آپ کو احساس تک نہ ہو۔ لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔
جب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ سکرین پر گزارا گیا وقت ہم پر کیا اثرات ڈال سکتا ہے تو عموماً ہماری توجہ ذہن پر مرکوز ہوتی ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ ٹیکنالوجی نے ہماری زندگیوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی کچھ صحت کے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔
مگر حال ہی میں جب میں نے ایک دن نیچے دیکھا تو اپنی چھوٹی انگلی پر سخت جلد کا ایک چھوٹا سا ابھار دیکھا۔ یہ بالکل اسی جگہ تھا جہاں میں اپنا فون ٹکاتا ہوں۔ یہ ایک عام واقعہ ہے، مگر اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا: میرا فون میرے باقی جسم کے ساتھ کیا کر رہا ہے؟
یہ جاننے کے لیے میں نے کچھ ماہرین سے رابطہ کیا۔ جواب، شاید آپ کو پہلے ہی اس کا اندازہ ہو۔۔۔ حوصلہ افزا نہیں ہے۔
تازہ ترین سائنسی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات آپ کی گردن کی ساخت میں تبدیلی لا سکتے ہیں، آپ کی بینائی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور آپ کے پٹھوں کی طاقت کم کر سکتے ہیں۔
لوگ یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہماری زندگیوں کے باعث جھریاں بڑھ رہی ہیں۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے، خاص طور پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ نوجوان نسل بھی اس کا شکار ہو رہی ہے۔
اور ان میں سے بعض جسمانی مسائل بعد ازاں ذہنی صلاحیتوں میں کمی یا دیگر زیادہ سنگین مسائل کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ یہ ایک تشویشناک پہلو ہے جس پر مزید غور کرنے کی ضرورت ہے۔
مجھے نہیں معلوم آپ کا کیا خیال ہے، مگر میں یہ سب خاموشی سے برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں (خاص طور پر اس لیے کہ مسلسل بیٹھے رہنا خود مسئلے کا ایک حصہ ہے)۔
خوش قسمتی سے اگر آپ نہیں چاہتے کہ ٹیکنالوجی آپ کے جسم کو نقصان پہنچائے تو چند ایسی چیزیں ہیں جو آپ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ یہ مضمون فون پر پڑھ رہے ہیں تو غالب امکان ہے کہ آپ اسے دیکھنے کے لیے اپنا سر نیچے جھکائے ہوئے ہیں۔ یہ ایک عام عادت ہے جو بہت سے لوگ کرتے ہیں، خاص طور پر جب وہ اپنے اسمارٹ فونز کا استعمال کرتے ہیں۔
اس طرح کی فارورڈ ہیڈ پوسچر آپ کی گردن پر 60 پاؤنڈ (27 کلوگرام) تک دباؤ ڈال سکتی ہے۔ یہ دباؤ وقت کے ساتھ آپ کی ریڑھ کی ہڈی کے ڈسکس کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جوڑوں اور پٹھوں کے انحطاط کا سبب بن سکتا ہے اور حتیٰ کہ پھیپھڑوں کی گنجائش بھی کم کر سکتا ہے۔
اس کے لیے ایک عرفی نام بھی موجود ہے: ٹیک نیک۔ یہ ایک ایسا اصطلاح ہے جو اس عادت کی نشاندہی کرتی ہے جو ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے باعث پیدا ہوتی ہے۔
یہ آپ کے جسم کی ظاہری ساخت کو مستقل طور پر بھی تبدیل کر سکتا ہے۔ ڈاکٹروں کی جانب سے مخصوص ورزشیں اس مسئلے کی اصلاح میں مدد دے سکتی ہیں۔
مگر کچھ آسان تبدیلیاں ایسی بھی ہیں جن پر آپ ابھی عمل شروع کر سکتے ہیں: اپنا فون زیادہ اونچا رکھیں۔ سکرین کو آنکھوں کی سطح پر رکھیں، اور بہتر یہ ہے کہ وہ آپ کے چہرے سے تقریباً ایک بازو کے فاصلے پر ہو۔
کمپیوٹر مانیٹرز کے لیے بھی یہی مشورہ ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ سکرین سے وقفے لینا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ کوشش کریں کہ ہر آدھے گھنٹے بعد 20 منٹ کا وقفہ لیں۔
حال ہی میں ایک نئی تشویش سامنے آئی ہے: کیا ٹیک نیک گردن پر جھریاں ڈال رہا ہے؟ برطانیہ میں رائل کالج آف فزیشنز کی فیلو اور کنسلٹنٹ ڈرماٹولوجسٹ جسٹین ہیکسٹل کہتی ہیں: ’یہ بات معقول لگتی ہے۔‘
ان کے مطابق بار بار پڑنے والا دباؤ جھریوں کا باعث بنتا ہے، اس لیے مسلسل آگے جھکنا اور گردن کو موڑنا ایک مسئلہ ہو سکتا ہے۔
تاہم ہیکسٹل کہتی ہیں کہ اب تک ایسی کوئی مضبوط تحقیق سامنے نہیں آئی جس سے اس تعلق کو ثابت کیا جا سکے۔ یہ ایک دلچسپ پہلو ہے جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
وہ آن لائن سامنے آنے والی خصوصی ’ٹیک نیک‘ مصنوعات خریدنے کے خلاف مشورہ دیتی ہیں۔ تاہم جلد کے دوسرے مسائل ضرور تشویش کا باعث ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو سمارٹ واچ کبھی نہیں اتارتے۔
وہ کہتی ہیں: ’تاریک اور نم ماحول [جیسے گھڑی کے نیچے کا حصہ] خمیر کی افزائش کے لیے بہترین ہوتا ہے، اس لیے وہاں جلن یا حتیٰ کہ ایکزیما بھی ہو سکتا ہے۔’
اور چونکہ اس سے جلد کی حفاظتی تہہ متاثر ہو سکتی ہے، ہیکسٹل کے مطابق اس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی مصنوعات میں استعمال ہونے والے بعض اجزا کے لیے حساسیت بھی پیدا ہو سکتی ہے، جن میں نکل، ربڑ، لیٹیکس اور ایکریلیٹس نامی کیمیکلز کا ایک گروپ شامل ہے۔
اس کا حل سادہ ہے: اپنی سمارٹ واچ زیادہ مرتبہ اتاریں اور جلد کو دھوئیں۔ وہ یہ بھی تجویز کرتی ہیں کہ اگر آپ سارا دن گھڑی پہننے والے ہیں تو حفاظتی کریم استعمال کریں۔
مایوپیا (قریب کی نظر کا کمزور ہونا) کی شرح کئی دہائیوں سے تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اگر آپ غور کریں کہ کیا کچھ بدلا ہے تو ٹیکنالوجی کو ذمہ دار ٹھہرانا آسان لگتا ہے۔
امریکہ کی اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی میں آپٹومیٹری کے پروفیسر ڈونلڈ متی کے مطابق بات کسی حد تک درست ہو سکتی ہے، مگر شاید اس انداز میں نہیں جیسے آپ سوچتے ہیں۔
متی کہتے ہیں: ’ہم نے بچوں کی آنکھوں کی نشوونما پر 20 سال سے زیادہ عرصے پر محیط ایک طویل المدتی مطالعہ کیا، جس میں مایوپیا کے آغاز اور بڑھنے کے خطرات کا جائزہ لیا گیا۔’
ایک اہم سوال یہ تھا کہ آیا مایوپیا اور ’قریب سے کیے جانے والے کام‘ میں کوئی تعلق ہے، یعنی وہ سرگرمیاں جن میں نظر کسی ایسی چیز پر مرکوز رہتی ہے جو چہرے کے قریب ہو، مثلاً فون۔
وہ کہتے ہیں: ’جواب تھا، نہیں۔’
تاہم اس تحقیق سے ایک اور بات سامنے آئی: باہر گزارا گیا وقت حفاظتی اثر رکھتا ہے۔
متی کہتے ہیں: ’خیال یہ ہے کہ بیرونی ماحول کی تیز روشنی ریٹینا سے ڈوپامین کے اخراج کو تحریک دیتی ہے‘، اور بظاہر یہ آنکھوں کی نشوونما کے انداز پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی دنیا بھر میں اس تبدیلی کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں ہم اپنا زیادہ وقت گھروں کے اندر گزارتے ہیں۔ اس لحاظ سے، متی کے خیال میں، آپ کے آلات بالواسطہ طور پر آپ کی آنکھوں پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
متی کے مطابق اس کا حل سادہ ہے: آپ کو زیادہ وقت باہر گزارنے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف آپ کی آنکھوں ہی کے لیے اچھا نہیں بلکہ بہتر نیند میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
البتہ دھوپ کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے سن سکرین اور دھوپ کا چشمہ ضرور استعمال کریں۔
گرفت کی طاقت کو اب مجموعی صحت کے ایک اہم اشاریے کے طور پر زیادہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ ابتدائی موت کی پیش گوئی بلڈ پریشر سے بھی بہتر انداز میں کرتی ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز انکشاف ہے جو صحت کی دیکھ بھال کے ماہرین کے لیے اہم ہے۔
اور بہت سے ممالک میں، خاص طور پر نوجوانوں میں، گرفت کی طاقت کم ہو رہی ہے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔
جرمنی کی میڈیکل یونیورسٹی آف لاؤزٹس میں میڈیکل سوشیالوجی کے پروفیسر یوہانس بیلر کہتے ہیں: ’نسل در نسل آنے والی یہ کمی صرف کمزور ہاتھوں کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ نوجوان نسلوں کی مستقبل کی صحت کے بارے میں ایک ابتدائی انتباہ بھی ہو سکتی ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ساتھ جسمانی سرگرمیوں میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ نوجوان نسل کو جسمانی سرگرمیوں کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ، یہ بھی ضروری ہے کہ والدین اور اساتذہ بچوں کو متحرک رکھنے کی کوشش کریں، تاکہ وہ صحت مند رہ سکیں۔
یہ تمام مسائل ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم اپنی ٹیکنالوجی کے استعمال کے طریقے کو تبدیل کر سکتے ہیں تاکہ ہم اپنی صحت کو بہتر بنا سکیں۔
بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں کچھ تبدیلیاں کرنی چاہئیں، جیسے کہ زیادہ جسمانی سرگرمی، بہتر بیٹھنے کی عادات، اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں توازن رکھنا۔
یہ سب کچھ ہماری صحت کے لیے اہم ہے، اور اگر ہم ان مسائل کا بروقت حل نہ نکالیں تو یہ ہماری زندگیوں پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان صحت کے مسائل کے بارے میں آگاہ رہیں اور اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لانے کی کوشش کریں۔
To learn more about the latest developments in Health News, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.