سلطان العلوم پبلک اسکول نے شجرکاری مہم کا آغاز کیا

ALN NEWS DESK
اے ایل این نیوز ڈیسک
آخری اپڈیٹ : ہفتہ 11 جولائی 2026 16:21
6 min read
  • linkedin
  • twitter
  • facebook
  • instagram
  • whatsapp

سلطان العلوم پبلک اسکول نے ون مہوتسو کے موقع پر شجرکاری مہم اور آگاہی ریلی کا انعقاد کیا، جس میں طلباء نے درختوں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔

حیدرآباد: سلطان العلوم پبلک اسکول (SUPS)، بنجارہ ہلز، نے ون مہوتسو کو جوش و خروش کے ساتھ منایا، جس میں طلباء، اساتذہ، عملے اور NCC کیڈٹس کی فعال شرکت نے ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار طریقوں کے لیے عزم کو دوبارہ ثابت کیا۔ یہ تقریب ایک اہم موقع ہے جو ہر سال ہندوستان میں منایا جاتا ہے، جس کا مقصد لوگوں میں درختوں کی اہمیت اور ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔

ون مہوتسو، جو کہ ایک ہندی لفظ ہے، کا مطلب ہے 'ایک مہینے کا جشن'، اور یہ ہر سال جولائی کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔ اس تقریب کا آغاز 1950 کی دہائی میں ہوا تھا تاکہ لوگوں کو درختوں کی اہمیت کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا سکے۔ اس کا مقصد صرف درخت لگانا نہیں ہے بلکہ لوگوں میں ماحولیاتی شعور پیدا کرنا بھی ہے، تاکہ وہ اپنے ماحول کی حفاظت کے لیے فعال کردار ادا کر سکیں۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جب معاشرتی اور ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔

سلطان العلوم پبلک اسکول میں منعقدہ تقریب کا آغاز اسکول کیمپس میں ایک آگاہی ریلی سے ہوا، جس میں طلباء نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور نعرے لگائے جیسے "درخت بچاؤ، قوم بچاؤ" اور "سبز رہو، زمین کو صاف رکھو"۔ یہ نعرے نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ طلباء میں اجتماعی ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں۔ ریلی کے دوران طلباء نے ماحولیاتی مسائل کے بارے میں بھی گفتگو کی، جیسے کہ فضائی آلودگی، پانی کی کمی، اور جنگلات کی کٹائی۔ یہ سرگرمیاں طلباء میں ماحولیاتی شعور بیدار کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں، جو ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

NCC کیڈٹس نے ریلی میں فعال شرکت کی، جو تقریب کے نظم و ضبط، سماجی ذمہ داری اور کمیونٹی سروس کے جذبے میں اضافہ کرتی ہے۔ NCC (نیشنل کیڈٹ کور) ایک تنظیم ہے جو نوجوانوں میں قومی خدمت اور قیادت کی مہارتیں پیدا کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ اس تقریب میں ان کی شرکت نے طلباء میں اجتماعی ذمہ داری کا احساس پیدا کیا اور انہیں اپنی کمیونٹی کے لیے مثبت تبدیلی لانے کے لیے متحرک کیا۔ یہ نوجوانوں کی تربیت کا ایک اہم حصہ ہے، جو انہیں مستقبل میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔

ون مہوتسو کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر، طلباء نے کیمپس کے مختلف مقامات پر پودے لگائے۔ یہ عمل نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ طلباء کو زمین کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے۔ درخت لگانا ایک طویل مدتی عمل ہے، اور اس میں طلباء کی شمولیت ان کی ماحولیاتی آگاہی کو بڑھانے کے لیے اہم ہے۔ اس کے ذریعے، طلباء کو یہ سمجھنے کا موقع ملتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے ماحول کی حفاظت کر سکتے ہیں، اور یہ عمل انہیں مستقبل میں ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، پرنسپل مس. سمر فاطمہ نے طلباء کو ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار زندگی کے لیے ایک عمر بھر کے عزم کی ترقی کی ترغیب دی۔ انہوں نے زور دیا کہ آج لگایا گیا ہر درخت ایک صاف ماحول، زیادہ متنوع حیات اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار مستقبل میں مدد کرتا ہے۔ ان کے الفاظ نے طلباء کو یہ سمجھنے میں مدد فراہم کی کہ ان کے چھوٹے چھوٹے اقدامات کس طرح بڑے تبدیلیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس طرح کے پیغامات طلباء کے ذہنوں میں ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کو مزید گہرا کرتے ہیں۔

پروگرام کا اختتام طلباء اور عملے کے ایک عہد کے ساتھ ہوا کہ وہ قدرت کی حفاظت کریں گے، قدرتی وسائل کا تحفظ کریں گے اور ایک سبز اور ماحولیاتی شعور رکھنے والی معاشرت کی تعمیر میں فعال شرکت کریں گے۔ یہ عہد ایک اہم قدم ہے جو طلباء کو ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ ان کی زندگیوں میں ایک مثبت تبدیلی کا آغاز بھی ہے، جس میں وہ اپنی کمیونٹی کے لیے ایک بہتر ماحولیاتی مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس طرح کی تقریبات کا مقصد طلباء میں ماحولیاتی شعور پیدا کرنا اور انہیں درختوں کی اہمیت کا احساس دلانا ہے۔ درخت نہ صرف ہوا کی صفائی میں مدد کرتے ہیں بلکہ زمین کی زرخیزی کو بھی بڑھاتے ہیں، اور جنگلی حیات کے لیے رہائش فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، درختوں کی موجودگی شہری علاقوں میں درجہ حرارت کو کم کرتی ہے اور شہری زندگی کے معیار کو بہتر بناتی ہے۔ درختوں کی شجرکاری کے فوائد صرف ماحولیاتی نہیں ہیں بلکہ یہ اقتصادی فوائد بھی فراہم کرتے ہیں، جیسے کہ لکڑی کی فراہمی، پھلوں کی پیداوار، اور سیاحت کے مواقع۔

تعلیمی اداروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس طرح کے پروگراموں کا انعقاد کریں تاکہ طلباء کو ماحولیاتی چیلنجز کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے اور انہیں ایک ذمہ دار شہری بنانے کی ترغیب دی جا سکے۔ یہ پروگرام نہ صرف طلباء کے لیے سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں عملی طور پر ماحولیاتی تحفظ میں شامل ہونے کا موقع بھی دیتے ہیں۔ اس طرح، طلباء میں ایک نئی نسل کی تشکیل کی جا سکتی ہے جو زمین کی حفاظت کے لیے عزم رکھتی ہو۔

سلطان العلوم پبلک اسکول کا یہ اقدام دیگر تعلیمی اداروں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرتا ہے کہ کس طرح ماحولیاتی تحفظ کو نصاب میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کے پروگراموں کے ذریعے، طلباء کو نہ صرف علم حاصل ہوتا ہے بلکہ وہ عملی تجربہ بھی حاصل کرتے ہیں، جو ان کی شخصیت کی تعمیر میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ تجربات طلباء کو مستقبل میں ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتے ہیں، اور انہیں ایک ایسی سوچ فراہم کرتے ہیں جو ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔

آخر میں، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے نوجوانوں کی شمولیت ایک اہم ضرورت ہے۔ اس طرح کے پروگراموں کے ذریعے، ہم ایک نئی نسل کی تشکیل کر سکتے ہیں جو زمین کی حفاظت کے لیے عزم رکھتی ہو اور جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ سکے۔ نوجوانوں کی یہ شمولیت نہ صرف موجودہ ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے، بلکہ یہ ایک طویل مدتی حل کی بنیاد بھی فراہم کرتی ہے۔

Get More Updates

To learn more about the latest developments in Conservation, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.

Related News