سندھ حکومت نے سرکاری اسکولوں میں داخلوں کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں ہر طالب علم کے لیے منفرد شناخت متعارف کرائی جائے گی۔
اسلام آباد، پاکستان ۱۶ جولائی، ۲۰۲۶ ALN: سندھ حکومت نے سرکاری اور سرکاری معاونت سے چلنے والے اسکولوں میں طلبہ کے داخلہ نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ہر طالب علم کے لیے ب فارم سے منسلک منفرد داخلہ شناخت متعارف کرائی جائے گی۔
یہ اقدام سندھ کے تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد نہ صرف داخلوں کی شفافیت کو بڑھانا ہے بلکہ طلبہ کے ریکارڈ کی درستگی اور حفاظت کو بھی یقینی بنانا ہے۔ وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نادرا کے تعاون سے ایک مربوط ڈیجیٹل نظام قائم کیا جائے گا، جو داخلوں، حاضری اور طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ کو منظم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
اجلاس کے دوران، جو کراچی میں نادرا حکام کے ساتھ منعقد ہوا، وزیر تعلیم نے کہا کہ ہر طالب علم کے لیے ب فارم سے منسلک ایک منفرد آئی ڈی بنائی جائے گی۔ یہ آئی ڈی نہ صرف داخلہ کے وقت استعمال ہوگی بلکہ اس کے ذریعے طلبہ کی حاضری، تعلیمی کارکردگی، امتحانی ریکارڈ اور اگر کوئی طالب علم اسکول تبدیل کرتا ہے تو اس کا ریکارڈ بھی محفوظ کیا جائے گا۔ اس طرح، ہر طالب علم کا مکمل ڈیجیٹل پروفائل تیار کیا جائے گا، جو کہ بہت سے فوائد فراہم کرے گا۔
اجلاس میں نادرا کے ڈائریکٹر جنرل عامر علی خان، ڈائریکٹر ایڈمن کرنل راؤ رضوان، ڈائریکٹر آپریشنز مقصود جھنڈانی اور محکمہ اسکول ایجوکیشن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں سندھ کے سرکاری اسکولوں میں ڈیجیٹل داخلہ رجسٹریشن، نادرا کے ساتھ ڈیٹا انٹیگریشن، منفرد طلبہ شناختی نظام اور آئندہ کے عملی طریقہ کار پر تفصیلی غور کیا گیا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سندھ میں SELECT منصوبے کے تحت 600 اسکولوں میں اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریسل سسٹم (SAMRS) کے ذریعے ڈیجیٹل داخلہ رجسٹریشن پہلے ہی جاری ہے۔ اس نظام کو مرحلہ وار تمام سرکاری اور سرکاری معاونت سے چلنے والے اسکولوں تک توسیع دی جائے گی۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ سندھ حکومت اسکولوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے، جبکہ اساتذہ اور طلبہ کے لیے ڈیجیٹل حاضری نظام بھی مختلف اسکولوں میں کامیابی سے نافذ کیا جا چکا ہے۔
وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ ہر طالب علم کا داخلہ نادرا کے تصدیق شدہ ب فارم نمبر کے ساتھ ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا جائے گا اور اسے SAMRS سے منسلک کیا جائے گا۔ اس اقدام سے فرضی اور دوہرے داخلوں کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ اس کے علاوہ، یہ نظام مسلسل غیر حاضر رہنے یا تعلیم چھوڑنے کے خطرے سے دوچار بچوں کی بروقت نشاندہی بھی کرے گا۔
سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اگر کوئی طالب علم تعلیم چھوڑ دے یا کسی دوسرے اسکول میں منتقل ہو جائے تو اس کا ریکارڈ باآسانی ٹریک کیا جا سکے گا۔ اس جدید نظام کے ذریعے تعلیمی انتظام، نگرانی اور خدمات کی فراہمی مزید مؤثر ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے انسانی مداخلت کم ہوگی، جس سے داخلوں اور حاضری کے نظام میں شفافیت بڑھے گی۔
اس کے ساتھ ہی، درست ڈیٹا کی بنیاد پر تعلیمی منصوبہ بندی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اصلاحات کو مزید مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے گا۔ نادرا کے ڈائریکٹر جنرل عامر علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل داخلہ نظام کے ذریعے بچوں کے درست اور قابلِ اعتماد تعلیمی اعداد و شمار مرتب کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ ہر طالب علم کو ب فارم سے منسلک منفرد تعلیمی شناخت دی جا سکے گی۔
یہ منفرد شناخت ہر طالب علم کے پورے تعلیمی سفر کے دوران ایک ہی ریکارڈ پر موجود رہے گی، جس سے مستقبل میں طلبہ کی تعلیم کے حوالے سے بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔ نادرا نے سندھ حکومت کے ساتھ مل کر داخلہ رجسٹریشن کا ڈیٹا مرتب کرنے کے لیے مکمل تکنیکی وسائل فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
اس کے علاوہ، نادرا سندھ میں برتھ اور ڈیتھ رجسٹریشن کے نظام پر بھی کام کر رہا ہے، جس سے مستقبل میں مختلف سرکاری ڈیجیٹل سروسز کے درمیان مؤثر روابط قائم کرنے میں سہولت ملے گی۔ یہ اقدامات نہ صرف تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اہم ہیں بلکہ یہ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل سروسز کے فروغ کی طرف ایک اور قدم بھی ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر وزیر تعلیم سندھ نے محکمہ اسکول ایجوکیشن اور نادرا کو ہدایت کی کہ وہ ڈیجیٹل داخلہ نظام کے عملی طریقہ کار کو جلد حتمی شکل دیں تاکہ صوبے بھر میں اس جدید نظام پر مرحلہ وار عملدرآمد شروع کیا جا سکے۔ یہ فیصلہ سندھ کے تعلیمی نظام میں ایک نیا دور شروع کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے، جو کہ طلبہ کی تعلیم کو مزید شفاف، مؤثر اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے اہم ثابت ہوگا۔
اس اقدام کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ سندھ میں تعلیمی نظام کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ روایتی داخلہ نظام میں مختلف مسائل شامل ہیں، جیسے کہ داخلوں میں دھوکہ دہی، طلبہ کی حاضری کا درست ریکارڈ نہ ہونا، اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کے بارے میں عدم شفافیت۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے یہ ڈیجیٹل نظام ایک مؤثر حل فراہم کرتا ہے، جو کہ نہ صرف طلبہ کی شناخت کو یقینی بناتا ہے بلکہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو بھی بہتر بناتا ہے۔
علاوہ ازیں، یہ نظام تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ جب سرکاری اسکولوں میں ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر طلبہ کا ریکارڈ موجود ہوگا تو اس کے ذریعے مختلف اسکولوں کے درمیان طلبہ کی منتقلی کو آسان بنایا جا سکے گا۔ یہ عمل نہ صرف طلبہ کے لیے بلکہ اساتذہ کے لیے بھی سہولت فراہم کرے گا، کیونکہ انہیں طلبہ کے ریکارڈ کے لیے مختلف جگہوں پر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
نظام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اساتذہ اور والدین کو بھی اس کے فوائد کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ اس کے لیے حکومت کو آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہوگی تاکہ والدین اور اساتذہ اس نئے نظام کو اپنانے میں آسانی محسوس کریں۔ اس کے علاوہ، ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت بھی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ اساتذہ اور عملہ اس نئے نظام کو مؤثر طریقے سے استعمال کر سکیں۔
اس کے علاوہ، حکومت کو اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ یہ نظام ہر طالب علم کے لیے قابل رسائی ہو، خاص طور پر ان طلبہ کے لیے جو دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں یا جن کے پاس ٹیکنالوجی تک رسائی نہیں ہے۔ اس کے لیے ممکنہ طور پر موبائل ایپلیکیشنز یا دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ ہر طالب علم کو اس نظام تک رسائی حاصل ہو سکے۔
آخر میں، سندھ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم ہے بلکہ یہ ملک کی مجموعی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ جب طلبہ کی تعلیم کو مؤثر طریقے سے منظم کیا جائے گا تو اس کے اثرات نہ صرف تعلیمی اداروں پر بلکہ ملک کی معیشت پر بھی پڑیں گے۔ تعلیم کی بہتری سے ایک باصلاحیت نسل تیار ہوگی، جو کہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
To learn more about the latest developments in Education News, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.