وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سنگھواڑہ بلاک میں سرسوتی ودیا نکیتن آدرش ودیالیہ کا افتتاح کیا، جس کا مقصد دیہی طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔
نئی دہلی، بھارت ۱۹ جولائی، ۲۰۲۶ ALN: تاثیر 19 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سنگھواڑہ دربھنگہ (محمد مصطفیٰ) سنگھواڑہ بلاک کی سمری پنچایت میں واقع پلس ٹو واسودیو مشر ہائی اسکول کے احاطے میں اتوار کے روز سرسوتی ودیا نکیتن آدرش ودیالیہ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ریاست کے 551 ماڈل اسکولوں کے ساتھ سمری کے سرسوتی ودیا نکیتن آدرش ودیالیہ کا بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے افتتاح کیا۔ اسکول احاطے میں منعقدہ پروگرام کے دوران موجود لوگوں نے افتتاحی تقریب کی براہِ راست نشریات دیکھی۔
اس موقع پر کیوٹی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر مراری موہن جھا، بی ڈی او وکرم بھاسکر، بی ای او ونود کمار، پرنسپل ڈاکٹر ایس۔ ایس۔ پرساد سمیت اساتذہ، طلبہ و طالبات اور بڑی تعداد میں سرپرست موجود تھے۔ اپنے خطاب میں رکن اسمبلی ڈاکٹر مراری موہن جھا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سماج کے آخری صف میں کھڑے بچوں تک معیاری اور جدید تعلیم پہنچانے کے مقصد سے ماڈل اسکولوں کا آغاز کیا ہے۔
یہ افتتاحی تقریب دراصل ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے جو کہ ریاست میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ سرسوتی ودیا نکیتن آدرش ودیالیہ کا قیام خاص طور پر ان طلبہ کے لئے کیا گیا ہے جو دیہی علاقوں میں رہتے ہیں اور جنہیں معیاری تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ اسکول حکومت کی جانب سے دیہی تعلیم کے فروغ کے لئے ایک اہم اقدام ہے، جس کا مقصد تعلیم کے معیار کو بلند کرنا اور طلبہ کو جدید تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی جانب سے ماڈل اسکولوں کا آغاز ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد نہ صرف تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کو بھی پورا کرنا ہے۔ اس طرح کے اسکولوں کے قیام سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ دیہی طلبہ کو بھی شہری طلبہ کی طرح معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
ڈاکٹر مراری موہن جھا نے اس موقع پر مزید کہا کہ سرسوتی ودیا نکیتن آدرش ودیالیہ فی الحال محدود وسائل کے ساتھ شروع کیا گیا ہے، تاہم وقت کے ساتھ یہاں تمام ضروری تعلیمی اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ حکومت کی ترجیح ہے کہ دیہی علاقوں کے طلبہ کو بھی بہتر تعلیمی ماحول اور جدید سہولیات سے استفادہ حاصل ہو۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کی روشنی سے ہی سماج میں تبدیلی ممکن ہے، اور اس تبدیلی کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بہترین تعلیم فراہم کریں۔
افتتاحی تقریب میں موجود اساتذہ اور مقامی لوگوں نے بھی اس منصوبے کی ستائش کی اور امید ظاہر کی کہ اس اسکول کے قیام سے علاقے میں تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی۔ اساتذہ سنجے کمار، وریندر کمار کیسری، ششی پربھا کماری، اجے کمار، سمن، چندر بھوشن کمار سنگھ، انور عالم، عفت پروین، پریانکا اگروال، آبھا کماری، کویتا کماری، اُپیندر کمار جھا، رام للا ٹھاکر، نریش منڈل سمیت بڑی تعداد میں مقامی لوگ موجود تھے۔
اس اسکول کے آغاز کا مقصد نہ صرف تعلیم کو فروغ دینا ہے بلکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم بھی فراہم کرنا ہے جہاں طلبہ کو مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملے گا، جو کہ ان کی شخصیت کی تعمیر میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ اسکول طلبہ کو نہ صرف نصابی تعلیم فراہم کرے گا بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی زور دے گا، تاکہ طلبہ کی ہمہ جہتی ترقی ہو سکے۔
سرسوتی ودیا نکیتن آدرش ودیالیہ کی افتتاحی تقریب میں موجود لوگوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ اسکول علاقے کے طلبہ کے لئے ایک نئی راہ ہموار کرے گا اور انہیں بہتر مستقبل کی طرف لے جائے گا۔ اس کے علاوہ، یہ اسکول مقامی کمیونٹی کے لئے بھی ایک اہم مرکز بن جائے گا جہاں والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے بارے میں فکر مند رہیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی ترقی کے لئے مختلف پروگرامز میں بھی حصہ لیں گے۔
مجموعی طور پر، سرسوتی ودیا نکیتن آدرش ودیالیہ کا قیام ایک مثبت اقدام ہے جو کہ ریاست میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ اسکول نہ صرف طلبہ کے لئے تعلیمی مواقع فراہم کرے گا بلکہ یہ علاقے کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
اس پروگرام کے ذریعے حکومت کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں کی جانے والی کوششوں کا ایک اور ثبوت ملتا ہے، جو کہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت تعلیم کو اپنی ترجیحات میں شامل کر رہی ہے اور دیہی طلبہ کو بہتر مواقع فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔
یہ اسکول مستقبل میں دیگر ماڈل اسکولوں کے قیام کے لئے بھی ایک مثال قائم کرے گا، جس سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ دیگر علاقوں میں بھی اسی طرح کے تعلیمی ادارے قائم ہوں گے۔
آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سرسوتی ودیا نکیتن آدرش ودیالیہ کا افتتاح ایک خوش آئند اقدام ہے جو کہ نہ صرف موجودہ طلبہ کے لئے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی ایک بہتر تعلیمی مستقبل کی ضمانت دے گا۔
تعلیم کا شعبہ کسی بھی ملک کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اس طرح کے ماڈل اسکولوں کا قیام اس بات کی نشانی ہے کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اس کے حل کے لئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
سرسوتی ودیا نکیتن آدرش ودیالیہ کی طرح کے تعلیمی ادارے نہ صرف طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں بلکہ وہ ایک ایسا ماحول بھی تخلیق کرتے ہیں جہاں طلبہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھار سکتے ہیں۔ اس طرح کی تعلیم طلبہ کی شخصیت کی تعمیر میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور انہیں ایک کامیاب مستقبل کی طرف گامزن کرتی ہے۔
مزید برآں، یہ اسکول مقامی کمیونٹی کے لئے بھی ایک اہم وسائل فراہم کرے گا۔ والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم کے بارے میں آگاہی حاصل ہو گی اور وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان کے بچے اس تعلیمی ادارے سے بہترین فائدہ اٹھائیں۔
اس کے علاوہ، اس اسکول میں مختلف پروگرامز اور سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی جو طلبہ کی ہمہ جہتی ترقی میں مددگار ثابت ہوں گی۔ ان سرگرمیوں میں کھیل، ثقافتی پروگرامز، اور علمی مقابلے شامل ہوں گے، جو طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں مدد دیں گے۔
آخر میں، سرسوتی ودیا نکیتن آدرش ودیالیہ کا قیام ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہے جو کہ ریاست میں تعلیمی نظام کی بہتری کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ اسکول نہ صرف طلبہ کے لئے ایک نئی امید کی کرن ہے بلکہ یہ مقامی کمیونٹی کے لئے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔
To learn more about the latest developments in Education News, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.