پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کی عمارت میں پرائیویٹ مرغیاں پالنے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر یونیورسٹی کی انتظامیہ نے تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔
اسلام آباد، پاکستان ۱۱ جولائی، ۲۰۲۶ ALN: پنجاب یونیورسٹی، جو پاکستان کی ایک معروف تعلیمی ادارہ ہے، کے شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کی عمارت میں پرائیوٹ مرغیاں پالنے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف یونیورسٹی کے اندرونی معاملات کی شفافیت پر سوالات اٹھاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ سرکاری اداروں میں غیر قانونی سرگرمیاں کس طرح جاری رہ سکتی ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی کی بنیاد 1882 میں رکھی گئی تھی اور یہ پاکستان کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ اس کا مقصد اعلیٰ تعلیم فراہم کرنا، تحقیق کو فروغ دینا اور معاشرے کی خدمت کرنا ہے۔ یونیورسٹی میں مختلف شعبے موجود ہیں، جن میں شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ بھی شامل ہے، جو کہ تکنیکی تعلیم میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس شعبے میں طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے اصولوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔
ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے ڈائریکٹر نے ادارے کی چھت اور لان میں مرغیاں پال رکھی ہیں۔ یہ مرغیاں نہ صرف ایک غیر معمولی سرگرمی ہیں بلکہ ان کے لیے سرکاری عمارت کی چھت پر دڑبے بھی بنوا دیے گئے ہیں۔ یہ بات حیران کن ہے کہ ایک تعلیمی ادارے کی سرکاری عمارت میں اس طرح کی سرگرمیاں جاری ہیں، جہاں طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنا ہوتا ہے۔ اس واقعے نے یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے انتظامات اور نگرانی کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اس کے علاوہ، مرغیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے 5 لاکھ روپے کا جنگلہ بھی لگانے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ جنگلہ نہ صرف مالی وسائل کا ضیاع ہے بلکہ اس کی وجہ سے ادارے کے طلبا و طالبات کو مرکزی لائبریری جانے کا راستہ بھی رک گیا ہے۔ یہ صورت حال طلبہ کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے، کیونکہ لائبریری ایک اہم تعلیمی وسیلہ ہے جہاں طلبہ اپنی تعلیم کے لیے ضروری مواد حاصل کرتے ہیں۔ جب طلبہ کو اپنے تعلیمی وسائل تک رسائی میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو اس سے ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
مزید برآں، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پرائیوٹ مرغیوں کی دیکھ بھال کے لیے شعبے کے سرکاری ملازمین کو ڈیوٹی پر مامور کیا گیا ہے۔ یہ بات مزید تشویش کا باعث بنتی ہے کہ سرکاری ملازمین جو کہ عوامی خدمت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں، انہیں ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ یہ سرکاری وسائل کے غلط استعمال کی بھی ایک مثال ہے۔ گرمیوں کے موسم میں، مرغیوں کو چھت سے شعبہ الیکٹریکل کی عمارت کے ہال میں بھی منتقل کر دیا گیا ہے، جو کہ ایک اور غیر معمولی اقدام ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مرغیوں کو سرکاری کولر اور اے سی سے تواضع کی جا رہی ہے۔ یہ ایک غیر مہذب عمل ہے کہ سرکاری وسائل کو ذاتی استعمال کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ یونیورسٹی کے دیگر ضروری امور کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، کلاس روم میں مرغیوں کا دانہ رکھنے کا بھی انکشاف ہوا ہے، جو کہ تعلیمی ماحول کے لیے مناسب نہیں ہے۔ کلاس رومز میں طلبہ کی توجہ تعلیم پر ہونی چاہیے، نہ کہ مرغیوں کی دیکھ بھال پر۔
پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان نے اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ شعبہ الیکٹریکل میں پرائیوٹ مرغیاں رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی، تاہم وہ اس معاملے کو دیکھیں گے۔ یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ اس معاملے کی سنجیدگی کو سمجھتی ہے، لیکن اس کے اقدامات کا انتظار ہے۔ اس وضاحت کے بعد، طلبہ اور والدین کی جانب سے یونیورسٹی کی انتظامیہ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری طور پر کارروائی کرے۔
شعبے کے ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ طالبات کو قدرتی ماحول فراہم کرنے کے لیے مرغیاں رکھی گئی ہیں، اور مستقبل میں مزید پرندے رکھنے کا ارادہ ہے تاکہ قدرتی ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ بیان ایک دلچسپ موڑ ہے، کیونکہ یہ سوالات پیدا کرتا ہے کہ کیا واقعی تعلیمی ماحول میں پرندے رکھنے کی ضرورت ہے، یا یہ محض ایک بہانہ ہے تاکہ ان غیر قانونی سرگرمیوں کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ تعلیمی اداروں میں قدرتی ماحول کی اہمیت اپنی جگہ ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ غیر قانونی طریقوں سے اس کا حصول کیا جائے۔
یہ واقعہ یونیورسٹی کے اندرونی معاملات کی شفافیت پر سوالات اٹھاتا ہے۔ تعلیمی ادارے میں اس طرح کی سرگرمیاں جاری رہنے سے نہ صرف یونیورسٹی کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ اس سے طلبہ کی تعلیم پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرے۔ اگر یہ معاملہ نظر انداز کیا جاتا ہے تو یہ دیگر ملازمین کو بھی ایسے غیر قانونی اقدامات کی ترغیب دے سکتا ہے۔
معاشرتی اور تعلیمی اداروں میں شفافیت اور احتساب کی ضرورت ہمیشہ سے محسوس کی گئی ہے۔ اس واقعے کے بعد، طلبہ اور والدین دونوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ سے جواب طلب کریں کہ وہ اس معاملے میں کیا اقدامات کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ بھی ضروری ہے کہ دیگر تعلیمی ادارے اس واقعے سے سبق سیکھیں اور اپنے اندرونی معاملات میں شفافیت کو یقینی بنائیں۔ یہ واقعہ ایک موقع ہے کہ تعلیمی ادارے اپنے اصولوں کو مضبوط کریں اور اپنے طلبہ کو ایک بہتر تعلیمی ماحول فراہم کریں۔
تعلیمی اداروں میں اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کا ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے، جو کہ نہ صرف تعلیمی معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ طلبہ کی ذہنی نشوونما پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر یونیورسٹی انتظامیہ اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے، جس سے دیگر ملازمین اور طلبہ کو بھی اس طرح کے غیر قانونی عمل کی ترغیب مل سکتی ہے۔
اس واقعے کے بعد، یہ دیکھنا باقی ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ اس معاملے میں کیا اقدامات کرتی ہے۔ کیا وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرے گی یا پھر یہ معاملہ وقت کے ساتھ ساتھ بھول جائے گا؟ اس کے علاوہ، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا طلبہ اور والدین اس معاملے پر آواز اٹھائیں گے یا نہیں۔ اگر طلبہ اور والدین اس معاملے میں متحرک رہتے ہیں تو اس سے یونیورسٹی کی انتظامیہ پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
یونیورسٹی کی انتظامیہ کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنے اصولوں اور اقدار کو ثابت کرے۔ اگر وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی تو یہ نہ صرف اس کی ساکھ کو متاثر کرے گا بلکہ یہ طلبہ کی تعلیم پر بھی منفی اثر ڈالے گا۔ طلبہ کی تعلیم کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ اس طرح کے مسائل کو کس طرح حل کرتی ہے۔ اگر یونیورسٹی انتظامیہ اس معاملے میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بناتی ہے تو یہ اس کی ساکھ کو مضبوط کرے گا اور طلبہ کے اعتماد کو بحال کرے گا۔
To learn more about the latest developments in Education News, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.