حیدرآباد: ایس سی سی ایل نے 'راجیو گاندھی سروسز ابھیا ہستھم' اسکیم کے تحت یو پی ایس سی سروسز پریلیمنری امتحان 2026 میں کامیاب امیدواروں کے لیے ₹1 لاکھ کی مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نئی دہلی، بھارت ۱۱ جولائی، ۲۰۲۶ ALN: حیدرآباد: تلنگانہ میں سول سروسز کے امیدواروں کے لیے ایک بڑی خوشخبری، سنگارینی کولیریز کمپنی لمیٹڈ (ایس سی سی ایل) نے 'راجیو گاندھی سروسز ابھیا ہستھم' اسکیم کے تحت آن لائن درخواستیں طلب کی ہیں، جس کے تحت اہل امیدوار جو یو پی ایس سی سول سروسز پریلیمنٹری امتحان 2026 میں کامیاب ہوئے ہیں، انہیں مین امتحان کی تیاری کے لیے ₹1 لاکھ کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
یہ اسکیم ہفتے کو ایس سی سی ایل کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر بدھ پراکاش جوٹی کی جانب سے اعلان کی گئی، اور یہ اقدام تلنگانہ حکومت کی ہدایت کے مطابق جاری رکھا گیا ہے۔ یہ ایک اہم موقع ہے کیونکہ یہ اسکیم نہ صرف امیدواروں کی مالی مدد کرتی ہے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے کہ وہ سول سروسز کے امتحانات میں حصہ لیں۔
ڈاکٹر بدھ پراکاش جوٹی نے کہا کہ تلنگانہ کے ہر اہل امیدوار جو یو پی ایس سی سول سروسز پریلیمنٹری امتحان میں کامیاب ہو چکے ہیں اور مین امتحان کے لیے اہل ہیں، وہ آن لائن مالی امداد کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ درخواستوں کی تصدیق کے بعد، ہر اہل درخواست گزار کو ₹1 لاکھ منتقل کیا جائے گا۔ اس طرح، یہ اسکیم ان امیدواروں کے لیے ایک مضبوط مالی بنیاد فراہم کرتی ہے جو سول سروسز کی تیاری کر رہے ہیں۔
امیدوار اپنی درخواستیں ایس سی سی ایل کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن جمع کر سکتے ہیں۔ تفصیلی اہلیت کے رہنما خطوط اور درخواست کے عمل کی معلومات پورٹل پر دستیاب ہیں۔ یہ سہولت امیدواروں کے لیے ایک اہم قدم ہے کیونکہ آن لائن درخواست کا عمل انہیں وقت کی بچت اور آسانی فراہم کرتا ہے۔
ڈاکٹر بدھ پراکاش جوٹی نے یقین دلایا کہ تلنگانہ کے مزید نوجوان اس مالی مدد کا مؤثر استعمال کریں گے اور سول سروسز میں کامیابی حاصل کریں گے، جس سے وہ ریاست اور قوم کی خدمت کر سکیں گے۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے کیونکہ سول سروسز میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدواروں کا تعلق براہ راست عوامی خدمات میں بہتری اور ترقی سے ہوتا ہے۔
ایس سی سی ایل کے سی ایم ڈی نے کہا کہ راجیو گاندھی سروسز ابھیا ہستھم اسکیم 2024 میں تلنگانہ حکومت کی ہدایت کے تحت کمپنی کی کارپوریٹ سوشل ذمہ داری (سی ایس آر) کے اقدامات کے طور پر شروع کی گئی۔ یہ اسکیم چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور ڈپٹی چیف منسٹر اور توانائی کے وزیر بھٹی وکرمارکا کی جانب سے باقاعدہ طور پر شروع کی گئی۔
2024 کے سول سروسز امتحان کے دوران، 140 امیدواروں کو جو پریلیمنٹری امتحان میں کامیاب ہوئے، ₹1 لاکھ کی مالی امداد فراہم کی گئی۔ ان میں سے 20 امیدوار انٹرویو (شخصیت ٹیسٹ) کے مرحلے میں آگے بڑھے اور انہیں ہر ایک کو مزید ₹1 لاکھ فراہم کیا گیا۔ آخر کار، سات امیدوار سول سروسز کے لیے منتخب ہوئے۔ یہ نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ مالی امداد نے امیدواروں کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔
2025 میں، 206 امیدواروں نے اس اسکیم کے تحت مالی امداد حاصل کی۔ ان میں سے 50 امیدوار انٹرویو کے مرحلے کے لیے کامیاب ہوئے، جبکہ 20 امیدواروں نے سول سروسز میں حتمی انتخاب حاصل کیا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اسکیم کی کامیابی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جو کہ ایس سی سی ایل کی جانب سے فراہم کردہ مدد کی مؤثریت کو ظاہر کرتا ہے۔
مجموعی طور پر، 346 سول سروسز کے امیدواروں نے پچھلے دو سالوں میں راجیو گاندھی سروسز ابھیا ہستھم اسکیم سے فائدہ اٹھایا ہے، جو کہ ایس سی سی ایل کی جانب سے تلنگانہ کے باصلاحیت نوجوانوں کی مدد کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے تاکہ وہ ملک کے سب سے زیادہ مسابقتی امتحانات میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ اس طرح، یہ اسکیم نہ صرف امیدواروں کے لیے مددگار ثابت ہو رہی ہے بلکہ یہ ریاست کی ترقی میں بھی ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ، یہ اسکیم تلنگانہ حکومت کی جانب سے نوجوانوں کے لیے فراہم کردہ دیگر ترقیاتی اقدامات کے ساتھ مل کر چل رہی ہے، جیسے کہ تعلیمی اسکالرشپس، پیشہ ورانہ تربیت پروگرامز، اور دیگر مددگار اقدامات۔ اس طرح کے اقدامات نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں ترقی کے مواقع فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اس اسکیم کے اثرات کی بات کی جائے تو یہ واضح ہے کہ یہ نہ صرف مالی مدد فراہم کرتی ہے بلکہ امیدواروں کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے کہ وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے مزید محنت کریں۔ یہ اسکیم ان امیدواروں کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے جو کہ سول سروسز کے امتحانات میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ 'راجیو گاندھی سروسز ابھیا ہستھم' اسکیم ایک مثبت اقدام ہے جو کہ تلنگانہ کے نوجوانوں کو مستقبل میں بہتر مواقع فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور اس کے ذریعے امیدواروں کی کامیابی کی شرح میں اضافہ کرنا ممکن ہو رہا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف ریاست کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ یہ ملک کی ترقی میں بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
اس اسکیم کی کامیابی کے پیچھے ایک مضبوط حکمت عملی ہے، جو کہ تلنگانہ حکومت اور ایس سی سی ایل کی جانب سے نوجوانوں کی ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی مثال ہے کہ کس طرح حکومتیں اور ادارے مل کر نوجوانوں کی مدد کر سکتے ہیں اور انہیں ترقی کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، یہ اسکیم دیگر ریاستوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرتی ہے کہ کس طرح مالی امداد اور رہنمائی کے ذریعے نوجوانوں کی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح کی اسکیمیں نہ صرف امیدواروں کی زندگیوں میں تبدیلی لا سکتی ہیں بلکہ یہ ملک کی مجموعی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی، یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اس طرح کی اسکیمیں صرف مالی امداد تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ نوجوانوں کو اپنی مہارتوں کو بہتر بنانے، علم میں اضافہ کرنے، اور خود اعتمادی بڑھانے میں بھی مدد کرتی ہیں۔ اس طرح، یہ اسکیمیں نوجوانوں کو ایک مکمل ترقیاتی ماحول فراہم کرتی ہیں جس سے وہ اپنی قابلیت کو بہتر بنا سکتے ہیں اور مسابقتی امتحانات میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
اس طرح، 'راجیو گاندھی سروسز ابھیا ہستھم' اسکیم ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہے جو تلنگانہ کے نوجوانوں کے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسی کوشش ہے جو نہ صرف انفرادی ترقی کے لیے اہم ہے بلکہ اجتماعی ترقی کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہے۔
To learn more about the latest developments in Entrance Exams, stay updated with our exclusive reports and analyses on AiLensNews.