لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران اپٹما کے پیٹرن انچیف گوہر اعجاز نے کہا کہ پاکستان کا قرض 10 ارب ڈالر ایک سال میں ادا کیا جا سکتا ہے، لیکن فیصلوں میں اعتماد کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد، پاکستان ۲۵ اگست، ۲۰۲۶ ALN: لاہور (25 اگست 2026): اپٹما کے پیٹرن انچیف گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ پاکستان کا قرض 10 ارب ڈالر صرف ایک سال میں ادا کر سکتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے پیٹرن انچیف اور سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا قرض 10 ارب ڈالر ایک سال میں ادا کر سکتے ہیں، لیکن ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے کہ اپٹما کو ہر فیصلے میں اعتماد میں لیا جائے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی معیشت مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جن میں بڑھتا ہوا قرض، تجارتی خسارہ، اور مہنگائی شامل ہیں۔ یہ چیلنجز پاکستان کی معیشت کے بنیادی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ملکی ترقی کی رفتار سست ہو رہی ہے۔ گوہر اعجاز نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت اپٹما جیسے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے تو یہ ممکن ہے کہ پاکستان اپنے قرضوں کی ادائیگی کو آسان بنا سکے۔
پیٹرن انچیف اپٹما کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل برآمدات 19 ارب سے 50 ارب ڈالر تک لے جاسکتے ہیں، لیکن ایف بی آر کا ٹیکس نظام فرسودہ اور ظالمانہ ہے، جس کی وجہ سے لوگ کاروبار کے بجائے سود پر پیسہ بینکوں میں رکھوانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے کیونکہ اس سے نہ صرف ملکی معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ نوجوانوں کے لئے بھی روزگار کے مواقع میں کمی آ رہی ہے۔
پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ ٹیکسٹائل سیکٹر پر منحصر ہے، جو ملک کی کل برآمدات کا تقریباً 60 فیصد فراہم کرتا ہے۔ اگر حکومت اس شعبے کی ترقی کے لیے صحیح اقدامات کرتی ہے تو یہ نہ صرف ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ اس کے علاوہ، ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ترقی سے ملک کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت بھی بڑھ سکتی ہے، جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت علامت ہوگی۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ 55 ارب ڈالر کے تجارتی خسارہ کو کم کرنے کیلیے ٹیکسز نظام، مہنگی بجلی اور گیس کے نرخوں کو کم کرنا ہوگا۔ ملکی صنعت کاروں سے حکومت مشاورت کے ساتھ فوری فیصلہ سازی کرے ورنہ معیشت کی بہتری نہیں ہوسکتی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں، حکومت کو ٹیکس میں کمی، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی، اور دیگر صنعتی سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ تمام عوامل پاکستان کی معیشت کی حالت کے پس منظر میں بہت اہم ہیں۔ ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے نہ صرف حکومتی پالیسیوں کی ضرورت ہے بلکہ صنعت کاروں اور کاروباری اداروں کی شمولیت بھی ضروری ہے۔ اگر یہ سب مل کر کام کریں تو پاکستان کی معیشت کو ایک نئی زندگی مل سکتی ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے باہر ہیں۔ اپٹما ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے تعلیم کے میدان میں بہتری لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ تعلیم کی کمی مستقبل کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اگر بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے تو یہ نہ صرف ملک کی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ نوجوانوں میں مہارتیں بھی پیدا کرے گا۔
تعلیم کے حوالے سے گوہر اعجاز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا ضروری ہے، تاکہ نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ تعلیم کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔
گوہر اعجاز نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ پاکستان کو اس وقت دنیا بھر میں امن کے داعی کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔ اس وقت پاک فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں، جو کہ معیشت کی بہتری کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی مسیحا کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ مسیحا تو آچکا ہے۔ یہ پاکستان کے پاس بہترین موقع ہے، اور اگر ہم سب مل کر کام کریں تو پاکستان کے پاس ایک روشن مستقبل کی امید موجود ہے۔
آخر میں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک ایسا موقع ہے جسے ہمیں ضائع نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اگر حکومت اور کاروباری شعبہ مل کر کام کریں تو پاکستان کی معیشت کی بحالی ممکن ہے، اور اس کے نتیجے میں ملک کے عوام کو بھی بہتر زندگی کی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
To learn more about the latest developments in Inflation & Prices, stay updated with our exclusive reports and analyses on AILensNews.
کینیڈا نے تجارتی تنازعہ کے جواب میں 700 سے زائد امریکی مصنوعات پر نئے محصولات عا…
امریکی ناظم الامور نے ایس آئی ایف سی کا دورہ کیا، جہاں پاک امریکہ اقتصادی و سرما…
تملک کے لیے دو جیولرز کو سونے کی انگوٹھی سکیم کے تحت کام کے احکامات جاری کیے گئے…
اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 0.02 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد سونا 4,407.78 ڈالر فی اونس …
حکومت نے پٹرولیم شعبے کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے صارفین…